امریکہ: یہودی عبادت گاہ میں فائرنگ سے کم از کم 11 افراد ہلاک۔

  • 30
  •  
  •  
  •  
  •  
    30
    Shares

امریکی ریاست پینسلوینیا کے شہر پٹسبرگ میں حکام کے مطابق ایک یہودی عبادت گاہ میں فائرنگ سے کم از کم 11 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

‘ٹری آف لائف’ سناگاگ میں اس وقت ایک مسلح شخص نے فائرنگ کی جب عبادت جاری تھی۔ حملہ آور کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’بہت سے لوگ‘ ایک ’اجتماعی قتل کے ناگوار واقعے‘ میں ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

مشتبہ حملہ آور کی شناخت 46 سالہ شخص رابرٹ بوورز کے نام سے ہوئی ہے، جو زخمی حالت میں ہیں۔

پولیس کے مطابق دو مزید شدید زخمیوں کا بھی ہسپتال میں علاج کیا جا رہا ہے۔

وفاقی تفتیش کار اس واقعے کی ‘نفرت انگیز جرم’ کے طور پر تفتیش کر رہے ہیں۔

ایک غیرسرکاری یہودی تنظیم اینٹی ڈیفیمیشن لیگ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہمارے خیال میں یہ امریکہ کی تاریخ میں یہودی برادری پر ہونے والا سب سے بڑا مہلک حملہ ہے۔

پٹسبرگ کے علاقے سکوئرل ہل میں واقع یہودی عبادت گاہ میں عبادت گزار سبات کے لیے جمع تھے۔

سکوئرل ہل وہ رہائشی علاقہ ہے جہاں ریاست پینسلوینیا میں سب سے زیادہ یہودی آبادی ہے اور سنیچر کے روز اس عبادت گاہ میں خاصی بھیڑ ہوتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایک سیفد فام شخص رائفل اور دو پستولوں سے لیس عمارت میں اس وقت داخل ہوا جب سنیچر کی صبح عبادت کی جاری تھی۔

جب پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی تو مسلح شخص نے عبادت گاہ کے ایک کمرے میں مورچہ بندی کر رکھی تھی۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق حملہ آور نے فائرنگ سے پہلے چیخ کر کہا تھا کہ ’تمام یہودی مر جائیں۔‘

رابرٹ بوورز کی سوشل میڈیا پر بھی یہودی مخالف پوسٹس سامنے آئی ہیں۔

پٹسبرگ میں واقعے کی تحقیقات کرنے والے ایف بی آئی کے خصوصی ایجنٹ باب جونز نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ اس بارے میں نہیں جانتے کہ کیا سنیچر کو پیش آنے والے واقعے سے پہلے حکام بوورز کے بارے میں جانتے تھے یا نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہیں لیکن حکام کا خیال ہے کہ حملہ آور تنہا تھا۔

رابرٹ بوورز کا ہسپتال میں علاج کیا جا رہا ہے جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انھیں گولیوں سے زخم آئے ہیں۔


  • 30
  •  
  •  
  •  
  •  
    30
    Shares

اترك تعليقاً

This site is protected by wp-copyrightpro.com