اٹلی میں سیلاب: چھ بلند سیلابی لہروں نے سیاحتی شہر وینس کو ڈبو دیا۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گذشتہ پانچ دہائیوں میں آنے والی سب سے بڑی مدوجزر کے بعد اٹلی کا شہر وینس جزوی طور پر زیرِ آب آ چکا ہے۔

مدوجزر کی نگرانی پر معمور ادارے کے مطابق پانی کی لہروں کی اونچائی 1.87 میٹر یا چھ فٹ تک ریکارڈ کی گئی ہے۔ سنہ 1966 میں آخری مرتبہ بلند سے بلند لہر کی اونچائی 1.94 میٹر تھی۔

وینس میں آئے طوفان کے بعد سامنے آنے والی تصاویر ظاہر کرتی ہیں کہ مشہور سیاحتی مقام مکمل طور پر زیرِ آب ہیں اور لوگوں کو سیلابی پانی سے گزرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

وینس کا سب سے نشیبی علاقہ سینٹ مارکس سکوائر اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق گذشتہ 12 صدیوں میں سینٹ مارکس باسیلیکا چھٹی مرتبہ زیرِ آب آیا ہے۔

سینٹ مارکس کونسل کے ایک ممبر پیرپاؤلو کیمپسترینی نے بتایا کہ گذشتہ 20 برسوں میں یہ چوتھی مرتبہ سیلابی صورتحال کا سامنا ہے۔ وینس شہر اٹلی کے شمال مشرقی ساحل سے دور ایک جھیل کے اندر 100 سے زیادہ جزائر پر مشتمل ہے۔

جزیرہ پیلسٹرینا میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ایک شخص اس وقت کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوا جب اس نے اپنے گھر میں پمپ کو چلانے کی کوشش کی جبکہ دوسرے شخص کی لاش کسی اور علاقے سے ملی ہے۔

وینس کے میئر لویگی بروگنارو کا کہنا ہے کہ وہ ایمرجنسی کی صورتحال کا اعلان کریں گے۔ انھوں نے متبنہ کیا ہے کہ سیلاب اپنا ’مستقل نشان چھوڑے گا‘۔

ٹویٹر پر جاری اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا ’صورتحال بہت ڈرامائی ہے۔ ہم حکومت سے مدد کی اپیل کرتے ہیں۔ نقصان بہت زیادہ ہو گا۔ یہ موسمیاتی تبدیلی کا شاخسانہ ہے۔‘

پورے شہر میں لوگ سیلابی پانی میں مشکل سے چلتے نظر آ رہے ہیں۔

سنہ 2003 سے شہر کو سیلاب سے محفوظ رکھنے کا ایک منصوبہ زیرِ غور ہے تاہم اب لاگت میں اضافہ ہونے سے یہ منصوبہ سکینڈلز اور تاخیر کا شکار ہے۔

اس منصوبے کے تحت شہر میں بہت سے تیرتے ہوئے گیٹس بننے ہیں تاکہ بلند ہوتی لہروں سے شہر کو محفوظ رکھا جا سکے۔

منگل کو اٹلی میں موسلادھار بارش ہوئی جبکہ آئندہ دنوں میں بھی خراب موسم کی پیش گوئی ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اترك تعليقاً

This site is protected by wp-copyrightpro.com