ایران کی اپیل پر عالمی عدالت انصاف کا امریکہ کے خلاف فیصلہ۔

  • 41
  •  
  •  
  •  
  •  
    41
    Shares

عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے فیصلہ صادر کیا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ 2015 میں ہونے والا جوہری معاہدہ ختم کرنے کے بعد لگائی جانے والی پابندیوں میں نرمی کرے۔

فیصلہ میں ایران کی حمایت کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ انسانی مدد کے لیے برآمد کی جانے والی چیزیں جیسے اشیا خورد و نوش اور دوائوں کی فراہمی کی اجازت ہونی چاہیے۔

امریکہ نے عدالت میں موقف پیش کیا ہے کہ آئی سی جے کے پاس اس معاملے کو جانچنے کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ یہ امریکی سیکورٹی کا معاملہ ہے۔

واضح رہے کہ ہالینڈ کے شہر ہیگ میں واقع عالمی عدالت انصاف کے فیصلوں پر عمل کرنا حکومتوں پر لازم نہیں ہوتا۔ یہ عدالت ملکوں کے مابین تنازعات کا قانونی حل پیش کرنے کے لیے اقوام متحدہ کا مرکزی ادارہ ہے۔ ماضی میں ایران اور امریکہ دونوں نے اس عدالت کے فیصلوں کو نظر انداز کیا ہے۔

بدھ کو سنائے جانے والی فیصلے میں عدالت کے صدر عبدل قوی یوسف نے کہا: ‘اس عدالت کے مطابق امریکہ پر لازم ہے کہ وہ ان اشیا کی برآمد پر لگائی جانے والی پابندیاں ختم کرے جو انسانیت کے نام پر ایران بھیجی جاتی ہیں۔’

ایران کی وزارت خارجہ نے اس فیصلے کے رد عمل میں کہا کہ یہ ‘ایران کے موقف کو درست ثابت کرتا ہے اور دکھاتا ہے کہ امریکہ کی جانب سے لگائی گئی پابندیاں غیر قانونی ہیں۔’

ایران کی معیشت امریکہ کی جانب سے لگائی جانے والی پابندیوں کے بعد سے کافی مشکلات کا شکار ہے اور اس کی کرنسی ریال کی قدر مئی میں پابندیاں لگانے کے بعد سے گر گئی ہے۔

اپنے رد عمل میں امریکہ نے اس فیصلے پر شدید تنقید کی اور کہا کہ ‘یہ بالکل نامناسب فیصلہ ہے اور عدالت کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں ہے۔’

ہالینڈ میں امریکی سفیر پیٹ ہوکسٹرا نے ٹوئٹر پر اپنے رد عمل میں کہا کہ عدالت نے ایران کی جانب سے کی گئی درخواست پر عمل نہیں کیا ہے اور یہ بہت ہی محدود حد کا فیصلہ ہے۔’

واضح رہے کہ اگست میں ایران نے عالمی عدالت انصاف سے درخواست کی تھی کہ وہ امریکہ کے 2015 میں ہونے والے جوہری معاہدے سے نکل جانے کے بعد لگائی جانے والی پابندیاں ختم کرے۔


  • 41
  •  
  •  
  •  
  •  
    41
    Shares

اترك تعليقاً

This site is protected by wp-copyrightpro.com