ایک مریض کورونا سے تو صحت یاب ہوگیا، لیکن بیوی خوف سے چل بسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا کی وبا سے دنیا تاحال نجات پانے میں مصروف ہے۔ اس کی تباہ کاریوں کے اثرات نہ جانے کب تک رہیں گے۔

پاکستان میں اس کے مریضوں کی تعداد میں رواں ماہ یعنی جون میں بہت تیزی سے اضافہ سامنے آیا ہے۔ رواں برس فروری میں جب اس سے متاثرہ پہلا فرد ہمارے سامنے آیا، تب سے ہی اس وبا کے خلاف احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں، ابتدا میں لوگ اس پر بالکل سنجیدہ نہیں ہوئے، لیکن اب صورت حال روز بروز تشویش ناک ہو رہی ہے۔ ایسے میں ڈر اور خوف کے بہ جائے اس سے نبرد آزما ہونے کا واحد حل صرف اور صرف احتیاط ہے۔

میں خود گزشتہ ماہ اس وبا کا شکار ہوا، لیکن الحمدللہ میں اور مجھ جیسے کئی دیگر افراد اس موذی بیماری کو شکست دے کر صحت یاب ہونے میں کام یاب رہے، اگرچہ میں بھی اس کا شکار ہونے سے قبل اپنے طور پر تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کیے ہوئے تھا، جو حکومتی سطح پر بیان کی جاتی رہی تھیں، ہم نے تین جمعے کی نماز گھر پر ادا کی، لیکن صرف دفتر آنے کی خاطر میں گھر سے باہر آتا جاتا، وہ بھی مکمل احتیاط کے ساتھ۔
خیر میں اس کا شکار بنا اور پھر بطور ذمے داری شہری کے ازخود ’آئسولیشن‘ کے لیے ایکسپو سینٹر، کراچی میں واقع فیلڈ اسپتال منتقل ہونے کا فیصلہ کیا اور اپنے دفتر کے دوستوں کی وساطت سے وہاں چلا گیا، جہاں 22، 23 دن قیام کے بعد دو منفی ٹیسٹ آنے پر صحت یاب قرار دیا گیا اور یوں گھر واپسی کا پروانہ مل سکا۔

اس دوران پیش آنے والے تجربات اور محسوسات کو ضبط تحریر میں لانے کا مقصد لوگوں میں اس وائرس کے خلاف احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور اور لوگوں کا ڈر ختم کرنا ہے۔۔۔ سب سے پہلے تو ہم لوگوں کے ذہن میں یہ بات واضح ہو جانی چاہیے کہ کورونا کی تشخیص ہوجانے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ اب موت یقینی ہے، دوم اگر کوئی مریض آپ کے علاقے یا قرب وجوار میں وارد ہو جائے تو اس سے گھبرانے کے بہ جائے ازخود احتیاط کرنا ہی ہمارے حق میں بہتر ہے۔ عام طور پر اس موقعے پر ہمارے وہ حضرات جو دیگر کو تلقین کرنے میں پیش پیش ہوتے ہیں، لیکن عمل کی باری آتی ہے تو ان کا پتا نہیں ہوتا۔

’ایکسپو سینٹر‘ میں میرے ساتھ ایک خاندان ایسا بھی تھا، جن کے اہل محلہ نے محض اس وائرس میں مبتلا ہو جانے کی وجہ سے ان سے قطع تعلق کر لیا، برسوں کے ساتھ رہنے والے ایک دوسرے کے لیے اجنبی بن گئے اور مشکل کے وقت میں جب ساتھ دینے کا وقت تھا، ساری مذہبی اور سماجی اقدار پس پشت ڈال دی گئیں۔ مذکورہ خاندان کے سربراہ نے آبدیدہ انداز میں اہل محلہ کا دل دکھانے والے سلوک کا تذکرہ کیا۔

ایکسپو سینٹر میں سماج سے ’علاحدگی‘ کے دوران اس وقت شدید دکھ ہوا جب وہاں موجود ایک صاحب کی اہلیہ محض اس غم میں دنیا سے چلی گئیں کہ ان کے شوہر کو ’کورونا‘ ہوگیا ہے۔۔۔! ان کی اس الم ناک موت کی وجہ ہمارے معاشرے میں کورونا کا پایا جانے والا خوف تھا۔ اپریل اور مئی میں یہ خوف عروج پر رہا، لیکن اب جون آنے پر جہاں حکومتی سطح پر نرمی کی جا رہی ہے اس سے لوگوں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے، لیکن اب لوگ ’بے خوفی‘ کی انتہا پر جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے بے احتیاطی کی جا رہی ہے اور یوں کورونا کے متاثرین کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

کراچی میں ایکسپو سینٹر کا انتظام پاک فوج کے سپرد ہے، جہاں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر نزہت طبی شعبے کی نگران ہیں، ان کے ساتھ ڈاکٹر اجمل، ڈاکٹر مہروز، ڈاکٹر ایمان ضیا، ردا تفویض، ڈاکٹر علیشبہ خان، ڈاکٹر انوشہ اور دیگر طبی عملے کا رویہ انتہائی ذمہ دارانہ اور مشفقانہ تھا۔ بطور مریض میرا آئسولیشن کا تجربہ انتہائی اطمینان بخش رہا۔ کورونا کی تشخیص ہونے پر دو دن تو دیگر لوگوں کی طرح میں بھی انتہائی پریشان ہوگیا تھا۔ ’قرنطینہ‘ ہونے میں مجھے قریبی لوگوں کی مخالفت کا بھی سامنا رہا، لیکن میں نے تمام پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد ’ایکسپو سینٹر‘ منتقل ہو جانے کو ہی بہتر خیال کیا، یہ الگ بات ہے کہ بعد میں میرے اہل خانہ بھی معاشرے کی روایتی بے حسی کا شکار ہوئی۔۔۔ افسوس ناک بات یہ کہ بہت سے لوگوں نے ’تشہیر‘ کا موقع پا کر اس حوالے سے بے مقصد ویڈیو بنائیں اور ’سوشل میڈیا‘ پر سینکڑوں ’ لائک‘ جمع کیے۔

بہرحال یہ بھی تصویر کا ایک رخ ہے، لیکن دوسری طرف ایکسپو سینٹر میں بلاشبہ بہترین انتظامات کیے گئے تھے اور متاثرین کو صحت یابی کی منزل تک پہنچانے میں کوئی بھی کسر نہیں رکھ چھوڑی۔ اس کا ہم سب ’مریضوں‘ کو اعتراف اور ادراک ہے، منتظمین نے تمام لوگوں کو ضروری اشیا فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے حوصلے بلند رکھنے کا بھی بھرپور خیال رکھا۔ یہ بہت ضروری تھا، کیوں کہ بیماری سے زیادہ سب لوگ خوف زدہ ہو کر وہاں پہنچے تھے، وہاں بڑی اسکرین پر بہ ذریعہ ’اسکائپ‘ ماہرِ نفسیات اور دیگر لوگوں کے سیشنز کا انعقاد بھی ایک عمدہ کاوش تھی۔ اس کے علاوہ انفرادی طور پر لوگوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ڈاکٹرز اور دیگر معاون عملے نے اپنی بہترین کاوشیں کیں۔

وہاں جاکر مجھے ایک نئی زندگی کا احساس ہوا، انتظامیہ نے تمام مریضوں کو سورج کی روشنی فراہم کرنے کے لیے ایک پارک کو کھولے رکھا، جس سے سب لوگوں نے استفادہ کیا۔ وہیں ’ایکسپو سینٹر‘ میں رمضان المبارک کے دوران احتیاطی تدابیر کے ساتھ نماز تراویح کا بھی اہتمام کیا گیا۔ وہاں ہم جیسے مقامی لوگوں کے علاوہ بیرون شہر سے آنے والوں کی بھی بڑی تعداد ٹھیرائی گئی تھی، جس میں تبلیغی جماعت کے کچھ افراد بھی شامل تھے، جن کی آمد سے وہاں کا ماحول انتہائی روح پرور ہوگیا تھا۔ نماز تراویح کے تین مصلے لگائے گئے، ایک جماعت نے 10 یوم میں قرآن کریم مکمل کیا، ایک مصلے پر روزانہ ایک پارے کی ترتیب رہی اور تیسرے مقام پر قرآنی سورتوں پر تراویح کو مکمل کیا گیا۔ حکام نے تراویح کی تکمیل پر مٹھائی کی تقسیم کا بھی بطورخاص اہتمام کیا۔

’ایکسپو سینٹر‘ میں بِتائے گئے ابتدائی دنوں میں ایک مسئلہ ’ٹیسٹنگ‘ کے نتائج میں تاخیر کا رہا، اس حوالے سے لوگوں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا، لیکن ایکسپو سینٹر فیلڈ اسپتال کے منتظم اعلیٰ بریگیڈیئر اعجاز اور ان کے رفقائے کار نے تمام مسائل کو حل کیا اور لوگوں کے اطمینان کے لیے کوشاں رہے، جس میں ٹیسٹ کے نتائج کو آویزاں کرنے کا عمل بھی شامل تھا، اس کے بعد بتدریج ٹیسٹ کے نتائج جلد آنے کا سلسلہ شروع ہوگیا اور پھر نتائج 24 گھنٹوں میں سامنے آنے لگے تھے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com