برلن کا ٹریفک شہد کی مکھیوں کے سبب درھم برھم۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جرمنی کے دارالحکومت  برلن کی ایک مصروف شاہراہ ’کارل مارکس‘ پر ہزاروں شہد کی مکھیوں کی وجہ سے کچھ دیر کے لیے ٹریفک رُک گیا۔

ان شہد کی مکھیوں کا جھنڈ برلن کے ایک گنجان علاقے ’نوئےکُولن‘ کی ایک نہایت مصروف شاہراہ پر دیکھا گیا۔ ٹریفک میں خلل کے سبب پولیس کو فوری طور پر ایکشن لینا پڑا۔ حالات پر قابو پانے کے لیے شہد کی مکھیاں پالنے والے مقامی افراد فوری طور سے پولیس کی مدد کے لیے آن پہنچے۔ تصویر میں پولیس کی مدد کو پہنچنے والے ایک شخص کو صورت حال سے نبردآزما دیکھا جا سکتا ہے۔

کارل مارکس نامی شاہراہ برلن شہر کے جنوب میں واقع ہے۔اس راستے سے گزرنے والوں کو یہ مکھیاں پریشان کرتی رہیں۔اور ان کا راستہ روکتی رہیں۔ حالات پر قابوپانے کے لیے پولیس کو دس منٹ تک تک و دو کرنا پڑی۔ دریں اثناء شہد کی مکھیاں پالنے والے افراد مکھیوں کو دوسری جگہ منتقل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

شہد کی مکھیاں پالنے والے ایک شخص آریسکی کیڈام نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ،’’عام طور پر شہد کی مکھیاں سال میں ایک مرتبہ اپنا نیا گھر بناتی ہیں۔مگر یہ مکھیاں اپنی کالونیوں کو منقسم کرتی رہتی ہیں۔ایسا یہ مکھیاں مئی کے گرم مہینے میں کرتی ہیں۔ جب وہ اپنے لیے نئے ٹھکانے ڈھونڈھ رہی ہوتی ہیں۔

تقریباﹰ دو تہائی شہد کی مکھیاں اپنی پرانی ملکہ کا پیچھا کرتی نئے ٹھکانے کی جانب روانہ ہوجاتی ہیں۔ملکہ پرانا ٹھکانہ نو مولود ملکہ کے حوالے کر دیتی ہے۔ شہد کی مکھیوں کے معاشرتی اصولوں کے مطابق اب نئی ملکہ پرانا شہد کا چَھتّا سنبھالے گی اور ملکہ کسی دوسری گرم جگہ پر اپنا نیا چَھتّا بنائے گی۔

مگر اس جھنڈ کی ملکہ کو بےوقوف کہا جارہا ہے کیونکہ اس بار ملکہ نے مصروف ترین شاہراہ کے بیچ وبیچ اپنا ڈیرہ جمانے کی کوشش کی جو کہ ٹریفک کی گھما گھمی والا راستہ تھا۔ملکہ کا یہ چَھتّا ٹریفک کی روانی روکنےکا سبب بنا۔

شہد کی مکھیاں پالنے والے اہلکار آریسکی کیڈام نے مزید بتایا کہ،’’اس نے بہت احتیاط سے ڈنک مارنے والی شہد کی مکھیوں کو پانی سے اتارا۔اس دوران بہت سی مکھیوں کو کامیابی سے منتقل کرلیا گیا جبکہ کچھ زندہ نہیں بچ پائیں۔اس نے مزید یہ کہا کہ تیس ہزار سے پچاس ہزار تک  مکھیاں اس جھنڈ کا حصہ تھیں۔

حالات پر قابو پانے والے پولیس اہلکار کے مطابق  شہد کی مکھیوں کے چَھتّے کا یہ واقعہ اپنی طرز کا منفرد اور پہلا کیس ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اترك تعليقاً

This site is protected by wp-copyrightpro.com