بریگزٹ: وزیراعظم ٹریزا مے قائدِ حزبِ اختلاف جیریمی کوربن سے مل رہی ہیں۔

  • 75
  •  
  •  
  •  
  •  
    75
    Shares

برطانیہ کی وزیراعظم نے حزب اختلاف کے رہنما جیریمی کوربن سے ملاقات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ بریگزیٹ کو عملی جامہ پہنانا پارلیمنٹ کے تمام ارکان کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ لوگ ہم سے یہ توقع کر رہے ہیں کہ ہم کوئی راستہ تلاش کرنے کے لیے ایوان میں سب سے رابطہ کریں۔

برطانوی پارلیمنٹ میں بریگزٹ کے حوالے سے ڈیڈلاک ختم کروانے کے لیے وزیراعظم ٹریزا مے یورپی یونین سے مزید وقت مانگیں گیں۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ وہ لیبر پارٹی کے رہنما جیریمی کوربن کے ساتھ ملاقات کرنا چاہتی ہیں تا کہ یورپی یونین کے ساتھ مستقبل کے تعلقات پر لائحہ عمل طے کر سکیں۔ لیکن ان کا موقف ہے کہ گذشتہ ہفتے بریگزٹ سے متعلق مسترد کیا گیا ان کی حکومت کا مجوزہ معاہدہ اس لائحہ عمل کا حصہ رہے گا۔

ادھر جیریمی کوربن کا کہنا تھا کہ وہ ٹریزا مے سے ملنے کے لیے باخوشی تیار ہیں اور ملاقات کے دوران کسٹمز یونین سمیت ورکرز کے حقوق کے تحفظ پر بات چیت کو یقینی بنائیں گے۔

مگر مذاکرات کی اس پیشکش پر ٹوری پارٹی میں بریگزٹ کے حامیوں نے برہمی کا اظہار کیا۔ بورس جانسن نے وزرا پر ‘بریگزٹ کا حتمی فیصلہ لیبر (پارٹی) کے سپرد’ کرنے کا الزام لگایا۔

سابق سیکرٹری خارجہ بورس جانسن کا کہنا تھا کہ بریگزٹ اس قدر نرم ہوتا جا رہا ہے کہ شاید وہ اب بریگزٹ ہی نہیں رہے گا اور وہ برطانیہ کے کسٹمز یونین میں رہنے پر کبھی رضامند نہیں ہوں گے۔

اس ملاقات کا مطلب شاید یہ ہے کہ ٹریزا مے یورپی یونین کے ساتھ زیادہ قریبی تعلقات رکھنے پر رضامند ہو جائیں گی یعنی ان کے ماضی کے دعووں کے برعکس، نرم شرائط پر مبنی بریگزٹ۔

برطانیہ کے پاس یورپی یونین کو بریگزٹ کا لائحہ عمل تجویز کرنے کے لیے 12 اپریل تک کا وقت ہے۔ پلان قبول نہ ہونے کی صورت میں برطانیہ کسی معاہدے کے بغیر یورپی یونین سے نکل جائے گا۔

نومبر 2018 میں ٹریزا مے نے یورپی یونین کے ساتھ بریگزٹ معاہدے پر اتفاق کر لیا تھا مگر اس معاہدے کو دو مرتبہ برطانوی پارلیمنٹ میں مسترد کیا جا چکا ہے جبکہ جمعے کو صرف علیحدگی کے معاہدے کو 58 ووٹوں سے مسترد کر دیا گیا۔

پارلیمانی ارکان نے بریگزٹ پر آمادگی ظاہر کرنے کے لیے دو مرتبہ ووٹ بھی کروائے مگر کسی بھی معاہدے کو اکثریت نہ ملی۔

برطانیہ نے 29 مارچ کو یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کرنی تھی لیکن ٹریزا مے نے یہ جانتے ہوئے مختصر توسیع پر اتفاق کیا کہ پارلیمان ڈیڈلائن تک معاہدے پر رضامند نہیں ہو گی۔

ایک بیان میں وزیراعظم ٹریزا کا کہنا تھا کہ وہ چاہتی تھیں کہ مزید توسیع ‘کم سے کم وقت کی ہو’ اور 22 مئی سے پہلے تک ہو تا کہ برطانیہ کو یورپی انتخابات میں حصہ نہ لینا پڑے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ جیریمی کوربن کے ساتھ نئے منصوبے پر اتفاق کرنا چاہتی ہیں اور 10 اپریل سے پہلے پارلیمنٹ میں اس پلان پر ووٹنگ کروانا چاہتی ہیں۔ 10 اپریل کو یورپی یونین بریگزٹ پر ایمرجنسی میٹنگ کرے گا۔

اگر ٹریزا مے اور جرمی کوربن کے مابین اتفاق رائے نہ ہو سکا تو وہ پارلیمانی ارکان کو مزید راستے دیں گی تاکہ وہ خود مسئلے کے حل کا چناؤ کریں۔ لیکن یورپی یونین کو کسی بھی قسم کی توسیع پر اتفاق کرنا ہو گا۔

بی بی سی یورپ کی ایڈیٹر کیٹیا ایڈلر نے تنبیہ کی ہے کہ ان کے مطالبات ‘بالکل تبدیل نہیں ہوئے’ اور وہ کسی بھی قسم کی مزید تاخیر سے نمٹنے کے لیے ‘بہت سخت شرائط’ تیار کر رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا ‘حالانکہ ٹریزا مے کہتی ہیں کہ وہ ایسا نہیں کرنا چاہتیں، یورپی یونین کے رہنما ان سے کہیں گے کہ وہ برطانیہ کو مئی کے آخر میں ہونے والے یورپی پارلیمانی انتخابات کے لیے تیار کریں کیونکہ انھیں یقین نہیں ہے کہ وہ (ٹریزا مے) اس سے پہلے بریگزٹ پر کوئی لائحہ عمل طے کر پائیں گی۔’


  • 75
  •  
  •  
  •  
  •  
    75
    Shares

اترك تعليقاً

This site is protected by wp-copyrightpro.com