بليک فرائیڈے کيا ہے اور دنيا کے ليے کيوں خطرناک ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بليک فرائیڈے کے دن اشياء پر حيرت انگيز رعايت کا رواج دنيا بھر ميں پھيلتا جا رہا ہے تاہم يورپ ميں اس کی مخالفت بھی شروع ہو گئی ہے۔ کئی يورپی ماحول دوست کارکن اسے امريکی طرز کے سرمايہ دارانہ نظام کی مثال قرار ديتے ہيں۔

فرانس ميں لوگ ’تھينکس گيونگ‘ کا تہوار نہيں مناتے، نہ ہی روس ميں اور نہ ہی جنوبی افريقہ ميں۔ مگر ’بليک فرائيڈے‘ کی شاپنگ زور و شور سے ضرور کرتے ہيں۔ بليک فرائيڈے کے دن اشياء پر زبردست رعايت اور صارفين کی جانب سے خريداری کا رواج در اصل امريکی ہے ليکن حاليہ چند برسوں ميں يہ طرز عمل دنيا بھر ميں مقبول ہوا ہے۔ حتی کہ اس قدر مقبول ہو گيا ہے کہ اب کئی ممالک و خطوں ميں اس کی مخالفت بھی سامنے آ رہی ہے۔

خريداری کے اعتبار سے اب دنيا کے کئی ممالک ميں بليک فرائيڈے پورے سال کا مصروف ترين دن ہوتا ہے۔ جرمنی ميں آن لائن ريٹيلر ايمازون کے ملازمين نے بہتر تنخواہوں کا مطالبہ سامنے رکھتے ہوئے، اس دن ہڑتال پر جانے کا فيصلہ کيا۔ يہ ايک علامتی قدم ہے۔
پيرس ميں بھی موسمياتی تبديليوں سے بچنے کے ليے متحرک مظاہرين نے ايک بڑے ريٹيلر اسٹور کے باہر کافی واويلا مچايا۔ مظاہرين کا کہنا ہے کہ وسيع پيمانے پر پروڈکشن کا عمل ہماری زمين کے ليے تباہ کن ہے۔ فرانس ميں تو چند قانون ساز بليک فرائیڈے پر مکمل پابندی کے حامی ہيں۔ صارفين کے حقوق کے ليے سرگرم گروپوں کا کہنا ہے کہ ريٹيلرز بليک فرائیڈے کو صارفين کو اپنی جانب راغب کرنے کے ليے استعمال کرتے ہيں ليکن يہ واضح نہيں کہ اشياء کی قيمتوں ميں اتنی واضح کمی در اصل کيسے کی جاتی ہے۔ پھر چند ناقدين کا موقف ہے کہ اس سے چھوٹے پيمانے پر کام کرنے والے ریٹيلرز کا کاروبار متاثر ہوتا ہے۔

گلوبلائزڈ کامرس کے دور ميں امريکی روايات اور مصنوعات کی دنيا بھر ميں مقبوليت و ترسيل ممکن ہوئی ہے۔ بليک فرائیڈے اسی کی ايک مثال ہے۔ مسيحی تہوار کرسمس سے قبل محض فروخت بڑھانے کے ليے وجود ميں لايا جانے والا يہ دن، امريکی طرز کے سرمايہ داری نظام کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

پيرس ميں ’بلاک فرائیڈے‘ کے عنوان تلے احتجاج کرنے والوں نے اپنے منشور ميں لکھا ہے، ’’ہماری زمين جل رہی ہے، سمندر مر رہے ہيں ليکن ہم اب بھی کھپت کی دوڑ ميں شامل ہيں۔ ہم تيس فيصد رعايت کے ليے اپنے بچوں کے مستقبل سے نہيں کھيليں گے۔‘

برطانيہ ميں عموماً کرسمس کے فوری بعد ہر طرف اشیاء کی قیمتیں کم کردی جاتی ہيں تاہم سن 2010 سے بليک فرائیڈے منانے کے رجحان ميں بھی اضافہ ديکھا گيا ہے۔ تاہم ايک تحقيق ميں سامنے آيا ہے کہ پچھلے برس برطانيہ ميں بليک فرائیڈے کے دن بظاہر رعايت کے ساتھ بکنے والی اکسٹھ فيصد اشياء کی قيمتيں اس دن سے پہلے اور بعد ميں بھی در حقيقت وہی تھيں يا اس سے بھی کم تھيں۔ اسی طرح صارفين کے حقوق کے دفاع کے ليے سرگرم ايک روسی واچ ڈاگ نے بھی فراڈ اور ريٹيلرز کی چالاکيوں سے بچنے کے ليے لوگوں کے ليے باقاعدہ ہدايات جاری کی ہيں۔ البتہ ايشيا ميں بليک فرائیڈے پر اضافی کاروباری سرگرميوں کا رجحان نہيں ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اترك تعليقاً

This site is protected by wp-copyrightpro.com