تارکین وطن سے متعلق نئے معاہدے پر یورپی سربراہان منقسم۔

  • 13
  •  
  •  
  •  
  •  
    13
    Shares

اطلاعات کے مطابق تارکین وطن کے لیے محفوظ حراستی مراکز بنانے کے حوالے سے یورپی سربراہان منقسم دکھائی دیتے ہیں۔

اس حوالے سے اٹلی کے صدر کا کہنا ہے کہ یہ حراستی مراکز یورپین ممالک میں کہیں بھی ہو سکتے ہیں۔جبکہ فرانس کے صدر نے کہا کہ یہ مراکز فرانس میں ہرگز نہیں ہوں گے کیونکہ فرانس وہ ملک نہیں ہے جہاں سب سے پہلے تارکینِ وطن داخل ہوتے ہیں۔

اس حوال سے جرمنی کی چانسلر اینجلا مرکل نے کہا کہ یہ ایک خوش آئند اقدام ہے لیکن اس حوالے سے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

یہ معاہدہ انجیلا میرکل کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ انھیں ملک میں شدید سیاسی تنازع کا سامنا ہے جہاں ان کے اہم ساتھی وزیر داخلہ ہارسٹ سیہوفر نے متنبہ کیا ہے کہ وہ ان تارکین وطن کو واپس بھیج دیں گے جو پہلے سے کہیں اور بھی رجسٹر ہیں۔

ادھر اٹلی نے بھی سپین اور یونان جو اپنی سرزمین پر رجسٹر ہونے والے تارکین وطن کو واپس لینے پر متفق ہیں سے اختلاف کیا ہے۔

محفوظ مراکز کہاں بنائے جائیں گے؟

ان مراکز کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انھیں یورپی ممالک کی جانب سے رضاکارانہ طور پر بنایا جائے گا، لیکن تاحال ایسی تفصیلات نہیں ہیں کہ آیا کون سے ممالک ان کی میزبانی کریں گے یا انھیں پناہ دیں گے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میخواں نے کہا ہے کہ یہ مراکز ان ممالک میں ہوں گے جہاں یورپ میں تارکین وطن سب سے پہلے پہنچے، اور اسی لیے فرانس میں ایسے مراکز نہیں ہوں گے کیونکہ وہ ان کی آمد کا پہلا ملک نہیں۔‘

تاہم اٹلی کے وزیراعظم نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ’فرانس سمیت‘ تمام یورپی ممالک یہ مراکز بنائیں گے۔

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائگریشن کے مطابق اب تک رواں سال میں یورپ میں داخل ہونے والے تارکین وطن کی تعداد تقریباً 56 ہزار ہے

یورپ کے کئی مرکزی ممالک اب تک اٹلی اور یونان کے پرہجوم کیمپوں میں سے 160000 پناہ گزینوں کو کہیں اور منتقل کرنے کی یورپی سکیم کو مسترد کر چکے ہیں۔


  • 13
  •  
  •  
  •  
  •  
    13
    Shares

اترك تعليقاً

This site is protected by wp-copyrightpro.com