ترکی اور یونان کے مابین ’گیس کے خزانے‘ کی لڑائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند برس پہلے قبرص کے قریب قدرتی گیس کے بڑے ذخائر دریافت ہوئے تھے۔ یہ ذخائر خطے کی اسٹریٹیجک اہمیت میں بہت زیادہ اضافہ کر چکے ہیں اور کئی ممالک کی نظر ان قدرتی وسائل پر جمی ہوئی ہے۔ یہ تنازعہ ایک طوفان کا پیش خیمہ ہے۔

قبرص کے گیس تنازعے میں یورپی یونین نے ترکی کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے باوجود انقرہ حکومت نے ڈرلنگ آپریشن جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے وہاں اپنا چوتھا بحری جہاز بھیج دیا ہے۔ ترک قبرص اور یونانی قبرص دونوں ہی ان وسیع ذخائر پر اپنا قبضہ چاہتے ہیں۔

یہ تنازعہ پیدا کیسے ہوا؟

چند برس پہلے ایک امریکی تیل کمپنی نے جزیرے کے جنوبی ساحل سے ایک بہت بڑا گیس فیلڈ دریافت کیا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہاں 227 بلین کیوبک میٹر گیس کے ذخائر ہو سکتے ہیں اور ان کی مالیت تقریبا 40 ارب ڈالر بنتی ہے۔ ویسے یہ ایک اچھی خبر ہے لیکن پہلے سے ہی تنازعات کے شکار اس خطے کے لیے یہ ایک بری خبر ہے۔

قبرص بحیرہ روم کا تیسرا بڑا جزیرہ ہے اور سن 1974ء سے ترکی اور یونانی قبرص کے درمیان منقسم ہے۔ اب دونوں ممالک گیس کے ان ذخائر پر اپنا حق جتاتے ہیں، جس کی وجہ سے ایک سنجیدہ تنازعہ پیدا ہو چکا ہے۔

پہلے یونانی قبرص نے توانائی کی بین الاقوامی کمپنیوں کو اس علاقے میں ڈرلنگ کی اجازت دی تھی۔ اس دوران ترکی نے اسے دھوکا دہی قرار دیا اور اپنی بحریہ کے جہاز وہاں روانہ کر دیے۔ فروری 2018ء میں فریقین کے مابین کشیدگی اس وقت بڑھ گئی، جب یونانی قبرص کی اجازت سے ایک اطالوی کمپنی گیس کی تلاش میں ڈرلنگ کر رہی تھی لیکن ترکی کے جنگی بحری جہازوں نے اسے ایسا کرنے سے روک دیا۔ اس کے بعد یہ کشیدگی اس وقت زیادہ بڑھ گئی، جب رواں برس ترکی نے اپنے ایسے بحری جہاز وہاں بھیجے، جو ابھی تک گیس سے مالا مال اس علاقے میں ڈرلنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اترك تعليقاً

This site is protected by wp-copyrightpro.com