جرمنی: سیاسی پناہ کے متلاشی افراد پر 600 سے زائد حملے.

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جرمنی میں رواں برس کی پہلی ششماہی میں سیاسی پناہ کے متلاشی افراد پر چھ سو سے زائد حملے کیے گئے۔ نسل پرستوں کی جانب سے نفرت کی بنیاد پر کیے گئے ان حملوں سے بچوں سمیت ایک سو دو افراد زخمی ہوئے۔

سن دو ہزار نو کے پہلے چھ ماہ کے دوران پولیس نے سیاسی پناہ کے متلاشی افراد پر ہونے والے چھ سو نو مقدمات درج کیے ہیں۔ جرمنی کی وفاقی حکومت کی جانب سے یہ اعداد و شمار اس سوال کے جواب میں پیش کیے گئے ہیں، جو بائیں بازو کی جماعت ‘دی لنِکے‘ کے پارلیمانی گروپ کی جانب سے کیا گیا تھا۔

ان حملوں میں غیرملکیوں کو زبانی کلامی بے عزت کرنا، انہیں ڈرانا دھمکانا، جسمانی نقصان اور آگ لگانے جیسے حملے شامل ہیں۔ جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق ساٹھ حملے ان پناہ گزینوں پر کیے گئے، جو کمیپوں میں موجود تھے جبکہ بیالیس حملوں میں ان تنظیموں یا پھر رضاکاروں کو نشانہ بنایا گیا، جو مہاجرین کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ان حملوں میں ایک سو دو افراد زخمی ہوئے اور ان میں سات بچے بھی شامل تھے۔ جرمن حکام نے ان تمام حملوں کو دائیں بازو کے کارکنوں کی طرف سے سیاسی بنیادوں پر کیے گئے جرائم قرار دیا ہے۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان میں سے ہر چوتھا حملہ برانڈن برگ ریاست کے ان علاقوں میں کیا گیا، جو دارالحکومت برلن کے مضافات میں واقع ہیں۔ پولیس کے مطابق اس ریاست میں مہاجرین کے خلاف مجموعی طور پر ایک سو ساٹھ حملے درج کیے گئے۔ اسی طرح جرمن ریاست باڈن ورٹمبرگ میں باسٹھ، لوئیر سیکسنی میں اٹھاون اور سیکسنی میں چھپن حملوں کی شکایات درج کروائی گئیں۔

جرمنی میں بائیں بازو کی جماعت کی خاتون ترجمان اولا جیلپکے کا پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جرمنی میں مہاجرین کو روزانہ کی بنیادوں پر دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا زور دیتے ہوئے کہنا تھا، ”حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان لوگوں کو تحفظ فراہم کرے۔‘‘


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اترك تعليقاً

This site is protected by wp-copyrightpro.com