جرمنی میں امیگریشن کے متعلق نئے قانون کا مسودہ تیار اگلے ماہ قانون پاس ہو جائے گا۔

  • 153
  •  
  •  
  •  
  •  
    153
    Shares

جرمنی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حکمران جماعت اور اس کی اتحادی جماعتوں کے مابین اتفاق رائے سے امیگریشن سے متعلق قانون کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے جسے اگلے ماہ سینٹ سے پاس ہونے کے بعد قانون کا درجہ حاصل ہو جائے گا۔

اس قانون کے پاس ہونے کے بعد جرمنی میں یورپین یونین سے باہر کے ممالک میں بسنے والے افراد بھی جرمن میں امیگریشن حاصل کر سکیں گے حکمران جماعت اور اس کے اتحادی جماعتوں کے درمیان اس بات پر تفصیلات طے ہو چکی ہیں کہ کس طرح جرمنی میں لیبر کی کمی کو پورا کیا جائے گا۔

جرمن اخبار “زود ڈوئچے سائٹنگ “کے مطابق وزارت داخلہ اور متعلقہ پارٹیوں کے درمیان اتفاق رائے ہوچکا ہے۔ اس قانون کے مطابق ہر وہ شخص جس کی کوالیفکیشن کو جرمنی میں قابل قبول سمجھا جاتا ہے اور اس کے پاس ایک کنٹریکٹ موجود ہوگا جرمنی میں کام کر سکے گا مسودہ قانون میں اس بات کا تعین کیا گیا ہے کہ آنے والے سالوں میں جرمنی میں لیبر فورس کی بہت زیادہ کمی ہونے کا خطرہ ہے اس کمی کو دور کرنے کے لئے محدود مدت کے ویزے دیے جائیں گے۔

یہ چھ ماہ کا ویزہ ہوگا جس میں کسی بھی یورپین یونین سے باہر کے ممالک سے آنے والے فرد کو اس بات کی اجازت دی جائے گی کہ وہ اپنی فیلڈ کے مطابق کام تلاش کرے اور اگر اسے اپنی فیلڈ میں کام مل جاتا ہے تو اس کو پرماننٹ ویزا دیا جائے گا۔جوکہ پانچ سال کا ہوگا۔

اس سلسلے میں سب سے پہلے جرمنی اور یورپی یونین کے افراد کو ترجیح دی جائے گی کہ وہ مختلف شعبوں میں ٹیکنیکل افراد کی کمی کو پورا کرسکیں مگر لیبر فورس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اس قسم کی ترجیح قابل قبول نہیں ہوگی۔

اس مسودہ قانون کے مطابق تین جمع دو کے فارمولے پر عمل کیا جائے گا یعنی جو فراد جرمنی میں ووکیشنل ٹریننگ لے رہے ہوں گے (جو کہ عموما تین سال پر مشتمل ہوتی ہے) ان کو جرمنی سے ڈی پورٹ نہیں کیا جائے گا اور ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد ان کو 2 سال کے لئے اس بات کی اجازت دی جائے گی کہ وہ اپنے لیے کام تلاش کرسکیں اگر دو سال میں وہ کام تلاش کر لیں گے تو ان کو بھی پرماننٹ ویزا دیا جائے گا۔

اخبار کے مطابق مسودہ قانون میں اس بات کا صاف طور پر تعین کیا جائے گا کہ کون سے لوگ جرمنی میں رہتے ہوئے جرمن کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔اور وہ لوگ جو ڈیڑھ سال تک جرمن میں کام کر چکے ہوں گے اور کام کی نوعیت اس طرح کی ہوگی کہ ایک ہفتے میں 35 گھنٹے تک کام کیا ہوگا ان کو بھی ڈیپورٹ نہیں کیا جائے گا بشر طہ کے انھوں نے گورنمنٹ سے کسی قسم کے پیسے نہ لیے ہو ں۔نیز اگر وہ جرمن معاشرے میں رہتے ہوئے اس کا حصہ بن چکے ہوں گے اور جرمن زبان پر ان کو عبور حاصل ہو گا تو ایسے افراد کے لیے بھی جرمن کا ویزا لینے میں آسانی ہوگی۔

اس سلسلے میں ایسے افراد جن کی سیاسی درخواست نامنظور ہوچکی ہو گی ان کو کام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔


  • 153
  •  
  •  
  •  
  •  
    153
    Shares

اترك تعليقاً

This site is protected by wp-copyrightpro.com