’جمال خاشقجی کے جسم کے ٹکڑے کر کے تیزاب میں تحلیل کیے گئے‘

  • 34
  •  
  •  
  •  
  •  
    34
    Shares

ترکی کے ایک اعلی اہلکار اور صدارتی مشیر یاسین اکتے نے کہا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ ۔ جمال خاشقجی کے جسم کے ٹکڑے کر کے تیزاب میں تحلیل کر دیے گئے

ان کے مطابق اِس معاملے کا ’منطقی نتیجہ‘ یہی اخز کیا جا سکتا ہے کہ جن لوگوں نے سعودی صحافی کو ہلاک کیا انھوں نے ان کے جسم کو ختم کر دیا تا کہ کوئی سراغ باقی نہ رہے۔

تاہم اب تک ایسے کوئی فارینزک ثبوت فراہم نہیں کیے گئے کہ ان کے جسم کو تیزاب میں تحلیل کیا گیا۔

یاسین اکتے نے مقامی اخبار حریت ڈیلی کو بتایا ’خاشقجی کے جسم کے ٹکڑے کرنے کی وجہ یہ تھی کہ انھیں با آسانی تیزاب میں تحلیل کر دیا جائے۔‘

ترکی کے صدارتی مشیر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جمال خاشقجی کی منگیتر خدیجہ چنگیز نے عالمی رہنماوں سے اپیل کی ہے کہ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹھرے میں لایا جائے۔

خاشقجی سعودی حکمرانوں کے بڑے ناقدین میں سے تھے جنھیں استنبول میں سعودی عرب کے سفارت خانے میں قتل کیا گیا۔

اس سے پہلے میڈیا اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکہ کو بتایا تھا کہ ان کے نزدیک قتل کیے گئے صحافی جمال خاشقجی ایک خطرناک اسلامی شدت پسند ہیں۔

اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے سعودی ولی عہد نے کی استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں ہلاکت کو تسلیم کرنے سے پہلے ولی عہد نے وائٹ ہاؤس فون کیا تھا۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور نیشنل سکیورٹی کے مشیر جان بولٹن سے وائٹ ہاؤس میں ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت میں کہا تھا کہ جمال خاشقجی اسلامی شدت پسند تنظیم اخوان المسلمین کے رکن تھے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ ٹیلی فون جمال خاشقجی کے لاپتہ ہونے کے ایک ہفتے بعد 9 اکتوبر کو کی گئی تھی۔

سعودی ولی عہد نے اطلاعات کے مطابق وائٹ ہاؤس پر زور دیا تھا کہ وہ امریکہ سعودی اتحاد کو قائم رکھے۔

دوسری جانب جمال خاشقجی کے خاندان کی جانب سے واشنگٹن پوسٹ کو جاری کیے جانے والے بیان میں اس بات کی تردید کی ہے خاشقجی اخوان المسلمین کے رکن نہیں تھے اور انھوں نے خود حالیہ برسوں میں متعدد بار اس کی تردید کی تھی۔

ترکی کی جانب سے مرکزی پراسیکیوٹر عرفان فدان نے کہا کہ ان کی سعودی حکام سے ملاقات میں کوئی واضح نتیجہ نہیں نکلا جبکہ سعودی عرب نے ان ملاقاتوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ترکی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پہلے سے تیار منصوبے کے تحت صحافی جمال خاشقجی کو سعودی قونصل خانے میں داخلے کے ساتھ ہی گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ انھی منصوبوں کے تحت جمال خاشقجی کے جسم کو آری کی مدد سے ٹکڑوں میں کاٹ دیا گیا۔’

سعودی حکومت کے ناقد جمال خاشقجی کی لاش ابھی تک نہیں ملی ہے لیکن دونوں ممالک کے حکام اس بات پر متفق ہیں کہ انھیں قونصل خانے میں ہی قتل کیا گیا۔


  • 34
  •  
  •  
  •  
  •  
    34
    Shares

اترك تعليقاً

This site is protected by wp-copyrightpro.com