دل کے مریضوں کے لیے نئی امید: بیٹری کے بغیر پہلا پیس میکر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سائنسدانوں نے پہلی بار ایک ایسا تجربہ کیا ہے، جو دل کے مریضوں کے لیے نئی امید ثابت ہو سکتا ہے۔ پہلی مرتبہ ایک بڑے جاندار کو ایسا پیس میکر لگایا گیا ہے، جو بیٹری کے بغیر چلتا ہے اور جسے توانائی دل کی دھڑکن سے ملتی ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر طویل المدتی بنیادوں پر یہ پیس میکر کام کرتا رہا، تو اس کی مدد سے ایسے انسانوں کے لیے ایک بڑی سہولت پیدا ہو جائے گی، جو دل کے مریض ہیں اور جنہیں ہر چند برس بعد اپنے پیس میکر کی بیٹری بدلوانا پڑتی ہے۔

عوامی جمہوریہ چین کی سائنسی علوم کی قومی اکیڈمی کے ماہر اور اس تجربے کے مرکزی محقق ژُو لی کے مطابق اگر یہ تجربہ کامیاب رہا، تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ دل کے مریضوں کو ایک نئی زندگی مل گئی ہے۔ اس شعبے میں دنیا بھر کے سائنسدان کام کر رہے ہیں کیونکہ اس وقت عالمی سطح پر ایسے انسانوں کی تعداد کئی ملین ہے، جو دل کے مختلف عارضوں میں مبتلا ہیں اور اپنی دھڑکن  کو معمول کے مطابق رکھنے کے لیے پیس میکر استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

اب تک ہوتا یہ ہے کہ اگر کسی بھی انسان کے جسم میں دل کے قریب کوئی پیس میکر لگایا جاتا ہے، تو اس کی بیٹری کئی مرتبہ بدلنا پڑتی ہے، کیونکہ کئی برس تک استعمال کے بعد اس کی کارکردگی معمول کے مطابق نہیں رہتی اور مریض کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے

پیس میکر کے لیے توانائی دل کی دھڑکن سے

ماہرین کے مطابق یہ پیس میکر دراصل ایک طرح کا بہت چھوٹا سا جنریٹر ہے، جسے چینی اور امریکی ماہرین نے مل کر تیار کیا ہے۔ یہ پیس میکر کسی بھی عام پیس میکر کی طرح مریض کی سینے میں دل سے کچھ اوپر لگایا جاتا ہے اور وہ مریض یا مریضہ کے دل کی دھڑکن کو کنٹرول میں رکھتا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اترك تعليقاً

This site is protected by wp-copyrightpro.com