دنیا کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔گزشتہ دس برس تاریخ کے گرم ترین سال.

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عالمی موسمیاتی تنظیم ڈبلیو ایم او نے انکشاف کیا ہے کہ رواں عشرہ تاریخ کا گرم ترین عشرہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق دنیا میں ضرر رساں گیسوں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج ریکارڈ سطح پر پہنچ چکا ہے.

عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) نے ہسپانوی دارالحکومت میڈرڈ میں جاری اقوام متحدہ کی عالمی ماحولیاتی کانفرنس کے شرکاء کو بڑھتے ہوئی زمینی درجہ حرارت سے خبردار کیا ہے۔ ڈبلیو ایم او کے سیکریٹری جنرل پیٹیری تالاس کا کہنا تھا، ”ہم تحفظ ماحول کے پیرس معاہدے کے اہداف حاصل کرنے سے ابھی بہت دور ہیں۔.

ان کا مزید کہنا تھا، ”اگر ہم نے تحفظ ماحول کے لیے فوری اقدامات نہ اٹھائے تو رواں صدی کے اختتام تک زمینی درجہ حرارت میں تین ڈگری کا اضافہ ہو چکا ہو گا۔‘‘ اِس وقت دنیا کے دو سو ممالک کے مندوبین میڈرڈ میں جمع ہیں تاکہ پیرس معاہدے کے اہداف حاصل کرنے کے لیے قوانین پر اتفاق رائے ممکن بنایا جا سکے۔ پیرس معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ زمینی درجہ حرارت کو دو سینٹی گریڈ کی سطح سے نیچے رکھا جائے گا، جیسا کہ صنعتی دور سے پہلے تھا.

ڈبلیو ایم او کی رپورٹ کے مطابق اٹھارویں صدی میں صنعتی دور کا آغاز ہوا تھا اور اس کے بعد سے رواں اکتوبر تک زمینی درجہ حرارت میں 1.1 ڈگری کا اضافہ ہو چکا ہے۔ اگر یہ سلسلہ ایسے ہی جاری رہا تو سن 2009  تاریخ کا دوسرا یا تیسرا گرم ترین سال قرار پائے گا.

ڈبلیو ایم او نے اپنے حالیہ اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ برس کرہ ارض میں گرین ہاؤس گیسیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی ریکارڈ سطح جمع ہو چکی تھی اور یہ رجحان رواں برس بھی جاری ہے.

منگل کے روز اس عالمی تنظیم نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سمندر عالمی حدت کی سب سے زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں۔ سمندر کاربن ڈائی آکسائیڈ اور حدت کو جذب کر رہے ہیں۔ اس وجہ سے سمندری پانی گرم ہو رہا ہے، جو آبی حیات کے لیے بھی انتہائی نقصان دہ ہے۔

اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ”سمندری پانی صنعتی دور کے بعد سے 26 فیصد زیادہ تیزابیت والا ہو چکا ہے۔‘‘ اس طرح سمندری ماحولیاتی نظام بری طرح متاثر ہو رہا ہے.


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اترك تعليقاً

This site is protected by wp-copyrightpro.com