دنیا کا پہلا ’سونے‘ سے بنا ہوٹل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوئمنگ پول سے لے کر چھتوں اور کھڑکیوں سے لے ٹوائلٹ تک، ہر چیز پر سونے کی تہہ چڑھائی گئی ہے۔ اس ہوٹل کو تیار کرنے میں گیارہ برس کا طویل عرصہ لگا ہے۔یہ پچیس منزلہ ہوٹل ویتنام کے شہر ہنوئے میں گیارہ برسوں کے دوران تعمیر کیا گیا ہے۔تین جولائی کو اس ہوٹل کا افتتاح کیا گیا تھا۔ یہ ویتنام کے ہاؤبین گروپ کی ملکیت ہے لیکن اس کا انتظام ایک امریکی کمپنی کے حوالے کیا گیا ہے۔انچ ہزار مربع میٹر پر محیط ’ہنوئے گولڈن لیک ہوٹل‘ کے زیادہ تر حصوں پر سونے کی ملمع کاری کی گئی ہے۔

لگژری کو اس ہوٹل میں ایک نیا رنگ دیا گیا ہے۔ اس فائیو اسٹار ہوٹل کی تیاری میں ایک ٹن سے زائد سونا استعمال ہوا ہے۔

اس لگژری ہوٹل کی تیاری پر 178 ملین یورو خرچ کیے گئے ہیں۔ استعمال ہونے والے سونے کی قیمت 50 ملین یورو بنتی ہے۔اس ہوٹل کے باتھ ٹب اور ٹواٹلٹ تک کو سونے کے اوراق سے ڈھکا گیا ہے۔ اسی لیے اسے دنیا کو انوکھا اور شاندار ہوٹل قرار دیا جا رہا ہے۔

اس ہوٹل کے چار سو کمرے ہیں اور ایک کمرے کا ایک رات کے لیے کرایہ تقریبا 220 یورو بنتا ہے۔

اس ہوٹل کی چھت پر 24 قیراط کے سونے کا استعمال کرتے ہوئے ایک سوئمنگ پول بنایا گیا ہے، جہاں سے ہنوئے کا بلندی سے نظارہ کیا جا سکتا ہے۔

یہ دنیا کا پہلا ایسا ہوٹل ہے، جس کے سامنے والے مکمل حصے پر سونے کے پانی کی تہہ چڑھائی گئی ہے۔

انتظامیہ کے مطابق کورونا وباء کے بعد ویتنام کا یہ ہوٹل بین لاقوامی سیاحوں کی پسندیدہ منزل بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سوویت دور کی عمارتوں کے درمیان یہ ایک جدید ترین عمارت ہے لیکن ویتنام کے غریب عوام اس میں قدم تک رکھنے کی سکت نہیں رکھتے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com