رواں برس کا نوبل انعام برائے امن ایتھوپیا کے وزیراعظم کے نام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایتھوپیا کے وزیر اعظم ابی احمد کو سن 2019 کے نوبل انعام برائے امن سے نوازا گیا ہے۔ انہیں یہ انعام براعظم افریقہ میں امن کے فروغ کی کوشش کے تناظر میں دیا گیا ہے۔

ناروے کی نوبل امن کمیٹی کے مطابق ابی احمد کو یہ انعام ہمسایہ ملک اریٹیریا کے ساتھ قدیمی سرحدی تنازعے کے حل کے لیے فیصلہ کن پیش قدمی کرنے پر دیا گیا ہے۔اس سال امن کے نوبل انعام کے لیے 301 امیدواروں کے ناموں پر غور ہوا۔ ان میں سویڈن کی کلائمیٹ چینج کی سرگرم کارکن سولہ سالہ گریٹا تھن بگ بھی شامل تھی۔

کمیٹی کےمطابق ابی احمد کی طرف سے امن اور بین الاقوامی تعاون کے حصول کے لیے ان کی کوششوں کے سبب انہیں یہ انعام دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ کئی حلقے یہ بھی خیال کرتے تھے کہ ہانگ کانگ میں جمہوریت نوازوں کے سرگرم لیڈران بھی امن انعام کے لیے خاصے فیورٹ تھے۔

ایتھوپیائی وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ نوبل انعام برائے امن جیتنے پر اُن کی قوم کا سر فخر سے بلند ہو گیا ہے۔ اس بیان میں واضح کیا گیا کہ یہ انعام حقیقت میں مشترکہ اور اجتماعی کوششوں کی فتح کی علامت ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ نوبل انعام ایتھوپیا کے اندر امید کا ایک نیا افق پیدا کرے گا اور قوم کی خوشحالی کا سبب بنے گا۔

ایتھوپیا میں ابی احمد نے منصب وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد سماجی و سیاسی تبدیلیوں کا جو سلسلہ شروع کیا، اُس نے ساری قوم کو حیرت میں ڈال دیا تھا۔ انہوں نے ہزاروں قیدیوں کو رہائی کا حکم دیا۔ کالعدم سیاسی تنظیموں کے لیڈروان کو واپس ملک بلا کر خیر مقدم کیا۔ سوشل میڈیا پر ایتھوپیا کے لوگوں نے کھلے عام اپنے جذبات کا اظہار شروع کر رکھا ہے۔ ابی احمد نے سن 2020 میں اپنے ملک میں شفاف اور آزادانہ انتخابات کے انعقاد کا عزم بھی ظاہر کر رکھا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اترك تعليقاً

This site is protected by wp-copyrightpro.com