‘سکندر اعظم’ ‘الیگزینڈر دی گریٹ’

  • 41
  •  
  •  
  •  
  •  
    41
    Shares

تاریخ عالم میں سکندر کا نام عظیم فاتحین کے طور پر درج ہے۔ ان کی فتوحات کے پیش نظر انھیں ‘سکندر اعظم’ یا ‘الیگزینڈر دی گریٹ’ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

ان کی پیدائش میسیڈونیا یعنی مقدونیہ کے شاہی خاندان میں 356 قبل مسیح میں ہوئی تھی۔

سکندر کو عظیم اس لیے کہا جاتا ہے کہ انھوں نے بہت کم عرصے میں اپنی حکومت یورپ سے لے کر ایشیا تک قائم کر لی تھی۔

ان کی سلطنت یونان سے لے کر ترکی، شام، مصر، ایران، عراق، افغانستان، پاکستان اور ہندوستان کی سرحد تک پھیلی ہوئی تھی۔

 ان کی فتوحات کے طفیل یونان کی تہذیب و ثقافت اور زبان دنیا کے کئی حصوں تک پہنچی۔ سکندر کے سر کئی شہروں کو قائم کرنے کا سہرا بھی جاتا ہے۔

تاریخ کی کتابوں میں ان کا نام ایک عظیم فاتح اور ایک ایسے شخص کے طور پر درج ہے جو کرۂ ارض کے سب سے پراسرار اور پوشیدہ مقامات تک گئے۔

سکندر سمندر کی گہرائیوں میں جانے والے پہلے شخص تھے؟

سکندر نے کئی اہم جنگیں لڑیں۔ بہت سے ایسے کارنامے سرانجام دیے جنھیں عظیم کاموں کے زمرے میں رکھا جاتا ہے۔ ان سب باتوں کے باوجود ان کے پاس ایڈونچر یعنی مہمات کے لیے بھی وقت تھا۔

وہ سمندر کے اندر آباد دنیا کو دیکھنا چاہتے تھے اور اسی لیے انھوں نے سمندر کی گہرائيوں میں جانے کا فیصلہ کیا۔

یہ کہا جاتا ہے کہ سکندر کے استاد اور معروف فلسفی ارسطو نے ہی پہلی بار چوتھی صدی قبل مسیح میں آبدوز کا ذکر کیا تھا۔ انھوں نے آبدوز کے جس واقعے کا ذکر کیا وہ سکندر اعظم کی مہم جوئی کے متعلق تھا۔

اس کے بعد آبدوز کا ذکر اکثر قرون وسطیٰ میں نظر آتا ہے۔ اس زمانے کے کئی مخطوطے اور تصاویر آج بھی موجود ہیں۔

ان میں کئی کہانیاں بھی شامل ہیں۔ ان میں سے بعض میں اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ سکندر کا تجسس انھیں وہاں لے گیا تھا۔ وہ سمندر کے نیچے آباد دنیا کو دیکھنا چاہتے تھے۔

دوسری طرف بعض ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ان کی فوجی حکمت عملی کا حصہ تھا۔ وہ حملے کے لیے سمندر کے راستے کا انتخاب کیا کرتے تھے۔

جب سکندر کی محبوبہ نے دھوکہ دیا۔

سمندر کی مہم جوئی کے متعلق سکندر کا ایک واقعہ بہت دلچسپ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار سکندر کانچ یا شیشے کے ایک بڑے سے مرتبان میں بیٹھ کر سمندر میں اترے۔ وہ مرتبان بالکل بند تھا۔ اس میں پانی نہیں جا سکتا تھا اور کانچ کا ہونے کے سبب سکندر اس کے شیشوں سے پانی کے اندر کی چیزیں دیکھ سکتے تھے۔

وہ اپنے ساتھ ایک کتا، ایک بلی اور ایک مرغی بھی لے گئے تھے۔

ان کے مرتبان سے ایک زنجیر منسلک تھی جس کی مدد سے وہ پانی سے باہر آ سکتے تھے۔

وہ اس زنجیر کا سرا اپنے سب سے قابل اعتماد شخص کو دینا چاہتے تھے اور اسی لیے وہ زنجیر اپنی محبوبہ کے ہاتھ میں تھما کر خود سمندر میں اتر گئے۔

جیسے ہی سکندر مرتبان میں بیٹھ کر سمندر میں پانی کے اندر گئے ان کی محبوبہ کے ایک دوسرے عاشق نے ان کی محبوبہ کو یہ تجویز دی کہ وہ زنجیر کو پانی میں پھینک کر اس کے ساتھ بھاگ چلیں۔

اس آدمی نے سکندر کی محبوبہ کے ہاتھوں سے زنجیر لے کر سمندر میں پھینک دی۔

زنجیر بھی اب مرتبان کے ساتھ سمندر میں جا چکی تھی اور اب سکندر کو خود ہی سمندر سے باہر نکلنا تھا۔ اور وہ کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔

شیشے کا جار

ایک عرصے تک جاری ایک مطالعے کے بعد ایک دوسری کہانی سامنے آئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ سکندر نے ٹرائے جزیرے پر حملہ کیا تھا۔ لیکن ٹرائے کے فوجیوں نے سکندر کو کسی بھی صورت جزیرے میں داخل نہیں ہونے دیا۔

کئی مہینے کی کوششوں کے بعد سکندر نے اپنے فوجیوں کو ایک سمندری راستہ بنانے کا حکم دیا۔

اور پھر اسی سمندری راستے کے ذریعے سکندر نے ٹرائے جزیرے پر حملہ کیا اور فتح کے بعد ہزاروں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا یا پھر غلام کے طور پر فروخت کر دیا۔

عہد وسطیٰ کے مخطوطے کے مطابق ٹرائے کی جنگ کے دوران سکندر نے شیشے کا ایک بڑا سا مرتبان بنوایا تھا جس کے ذریعے وہ کچھ دیر کے لیے پانی کے اندر اترتے اور بغیر بھیگے وہاں سے نکل آتے تھے۔

مخطوطے کے مطابق سکندر کے جہازوں کا بیڑا اوپر ہوتا اور وہ نیچے مرتبان میں بیٹھ کر سفر کرتے۔ انھیں وہ مرتبان اتنا پسند آیا کہ انھوں نے اپنے کئی فوجیوں کے لیے بھی اسی طرح کا مرتبان بنوایا۔

بہر حال ان مخطوطوں اور ان میں موجود تصاویر کے بارے میں یہ تصدیق نہیں کی جا سکتی کہ وہ سکندر سے ہی منسلک ہیں۔ تاہم یہ مخطوطے بہت پرانے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ یہ کسی مصور کے تخیل کا نتیجہ ہوں۔

اس طرح کے شیشے کا مرتبان کوئی خیالی چیز نہیں تھی۔ اس طرح کے مرتبان بحر ایجہ کے ماہی گیر زمانۂ قدیم میں استعمال کیا کرتے تھے۔

یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ آیا سکندر تاریخ میں آبدوز استعمال کرنے والے پہلے شخص تھے۔ اس کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ لیکن سمندر کے ساتھ سکندر کی وارفتگی اور ان کی جنگی حکمت عملی کی داستانیں دلچسپی سے خالی نہیں ہیں۔

سکندر کی مہمات اور فتوحات کے ساتھ جب ان کی مختصر عمر کا علم ہوتا ہے تو ان کی عظمت کا زیادہ احساس ہوتا ہے۔ انھوں نے صرف 32 سال کی عمر میں دنیا کو الوداع کہہ دیا۔ ان کی زندگی کی طرح ان کی موت کے ساتھ بھی کئی قصے منسلک ہیں۔

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ انھیں زہر دیا گیا تھا جبکہ بعض اس بات کے قائل ہیں کہ ان کی موت طویل علالت کے بعد ملیریا کے باعث ہوئی تھی۔


  • 41
  •  
  •  
  •  
  •  
    41
    Shares

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com