سی این این اور صدر ٹرمپ میں ٹھن گئی، ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ۔

  • 29
  •  
  •  
  •  
  •  
    29
    Shares

امریکی فیڈرل جج نشریاتی ادارے سی این این کی جانب سے صدر ٹرمپ سے تلخ کلامی کے بعد اپنے نامہ نگار کا اجازت نامہ منسوخ کیے جانے پر ٹرمپ انتطامیہ کے خلاف دائر مقدمے کی سماعت کر رہے ہیں۔

سی این این نے ٹرمپ انتظامیہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے اس کے نامہ نگار جم اکاسٹا کا اجازت نامہ منسوخ کر کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔

خیال رہے کہ سی این این کے نامہ نگار جم اکاسٹا کے صدر ٹرمپ سے تلخ جملوں کے تبادلے کے بعد یہ پابندی عائد کی گئی تھی۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق وائٹ ہاؤس نے سی این این کی شکایت کو توجہ حاصل کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے اس کا دفاع کرنے کا عزم کیا ہے۔

نیشنل ٹیلی ویژن پر تلخ کلامی کے مناظر براہ راست نشر ہونے اور صحافی کا اجازت نامہ منسوخ ہونے کے بعد الزام تراشیوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا تھا کہ صدر ٹرمپ صحافتی آزادیوں کو دبا رہے ہیں اور اس کے ساتھ صدر ٹرمپ اور سی این این کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ سی این این اکثر اوقات صدر ٹرمپ کی برہمی کا نشانہ بنتا ہے۔

سی این این نے منگل کو ایک بیان میں واشنگٹن کی فیڈرل عدالت میں مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ان اجازت نامہ کی غلط منسوخی سی این این اور اکاسٹا کے بحیثیت صحافی آزادی کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

سی این این نے مقدمے میں اکسوٹا کے اجازت نامہ کو عارضی طور پر بحال کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ اجازت نامہ کی منسوخی ایک مثال بن سکتی ہے جس کے تحت مستقبل میں دیگر میڈیا اداروں پر بھی حملہ کیا جا سکتا ہے اور اگر اس اقدام کو چیلنج نہ کیا گیا تو وائٹ ہاؤس کے اقدامات کے تحت منتخب حکام کو کور کرنے والے صحافیوں پر خوفناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ڈسٹرکٹ جج ٹموتھی کیلی نے ٹرمپ انتظامیہ کو بدھ کو مقامی وقت کے مطابق 11 بجے تک جواب دینے کا حکم دیا ہے جبکہ کیس کی سماعت ساڑھے تین بجے ہو گی۔

اس کے بعد وائٹ ہاؤس نے اکاسٹا کا ہارڈ پاس اس وقت منسوخ کر دیا تھا جب ایک پریس کانفرنس میں ان کی صدر ٹرمپ سے سخت جملوں کا تبادلہ خیال ہوا تھا اور اسی دوران صدر ٹرمپ نے ایک دوسرے صحافی سے سوال لینے کا کہا لیکن جم اکاسٹا نے مائیکروفون نہیں چھوڑا تو صدر ٹرمپ نے انھیں’بدترین شخص‘ اور ’ غیر مہذب‘ قرار دیا۔

تاہم اکاسٹا نے مزید سوالات کیے تو وائٹ ہاؤس کی ایک خاتون انٹرن نے سی این این کے نامہ نگار سے مائیکرو فون لینے کی کوشش کی لیکن انہوں نے انٹرن کو مائیکرو فون پکڑنے نہیں دیا اور اس واقعے کو ٹرمپ انتظامیہ نے اسے خواتین کے خلاف ناشائستہ رویہ قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ رواں برس جولائی میں امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی ایک نامہ نگار کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ‘غیر مناسب’ سوالات پوچھنے پر وائٹ ہاؤس کی جانب سے پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

کیٹلِن کولنز کا کہنا ہے کہ صدر پوتن اور صدر ٹرمپ کے سابق وکیل کے بارے میں ایک سوال پوچھنے کے بعد انھیں وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اگلی تقریب میں نہیں بلایا گیا۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری سارا سینڈرز نے کہا کہ نامہ نگار نے چِلا کر اپنے سوالے پوچھے تھے اور کہنے پر وہاں سے جانے سے انکار کر دیا تھا۔

صدر ٹرمپ کئی بار سی این این کو ‘فیک’ یا جعلی نیوز کہہ کر نشانہ بنا چکے ہیں، اور اس کے نامہ نگاروں کے سوالات کا جواب دینے سے انکار کر چکے ہیں۔


  • 29
  •  
  •  
  •  
  •  
    29
    Shares

اترك تعليقاً

This site is protected by wp-copyrightpro.com