فرانس میں اسلاموفوبیا کے خلاف مسلمانوں کا مارچ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پیرس سمیت فرانس کے دیگر شہروں میں ہزاروں افراد نے یورپ میں مسلمان آبادیوں کو اسلامو فوبیا کے تحت ہدف بنائے جانے کے واقعات کے خلاف مارچ کیا۔

وائس آف امریکہ کے لیے پیرس سے لیزا برائنٹ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بارش کے باوجود مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ان مارچز میں شریک ہوئی۔ایک شہری محمد نے جو اپنی بہن خدیجہ کے ساتھ اس مارچ میں شریک ہیں، بتایا کہ مسلمانوں کو شدت پسند رویوں کا سامنا رہتا ہے’’ ہم پوری طرح اس معاشرے میں خود کو ضم محسوس کرتے ہیں لیکن ہمیں شدت پسندی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ نوکری کے لیے انٹرویو سے لے کر کسی بھی فرانسیسی روایتی عمل کا حصہ بننے تک، ہر جگہ اپنا نام تبدیل کر لو‘

‘آئی ایف او پی کی ایک نئی جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر دس میں سے چار مسلمان سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ مذہب کی وجہ سے تفریق روا رکھی جاتی ہے۔

ایک اور سروے کے مطابق ساٹھ فیصد ایسے افراد جن سے سوالات کیے گئے، سمجھتے ہیں کہ اسلام فرانسیسی اقدار سے میل نہیں رکھتا۔فرانس میں مسلمانوں پر حملے کوئی نئی بات نہیں رہی۔ حالیہ دنوں میں یکے بعد دیگرے ایسے واقعات کے سبب ہی مسلمانوں نے اس مارچ کا اہتمام کیا ہے۔ گزشتہ ماہ دو مسلمان شہری گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہو گئے۔

ان پر یہ حملہ ایسے وقت کیا گیا جب وہ فرانس کے جنوب مغربی علاقے میں ایک مسجد سے باہر آ رہے تھے۔فرانس کی قدامت پسند سینیٹ نے ایک بل میں ترمیم منظور کی ہے جس کے تحت مسلمان خواتین کو نقاب کے ساتھ اپنے بچوں کے سکول کے بیرونی دوروں میں ساتھ جانے سے روکا گیا ہے۔فرانس میں اس مارچ کو متنازعہ خیال کیا جارہا ہے۔ مارچ کے بعض منتظمین کا تعلق بنیاد پرستی سے جوڑا جاتا ہے۔ بائیں بازو کے متعدد سیاست دانوں نے اس احتجاج میں شامل ہونے کی مخالفت کی ہے


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اترك تعليقاً

This site is protected by wp-copyrightpro.com