لیبیا اور ترکی کے درمیان سمجھوتے، ترکی اور یونان میں تناؤ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ترکی نے لیبیا کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے ساتھ سمندری نگرانی اور فوجی تعاون کے دو سمجھوتے طے کیے ہیں۔ ان سمجھوتوں سے ترکی اور یونان میں تناؤ پیدا ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے۔

ان سمجھوتوں میں یہ طے پایا گیا ہے کہ طرابلس اور انقرہ کی حکومتیں دو طرفہ فوجی تعاون میں اضافہ کریں گی اور سمندری سرحدی نگرانی کے عمل کو تیز کیا جائے گا۔ فوجی تعاون کی ڈیل سے بحیرہ روم کے بعض ممالک اور خاص طور پر یونان  نے ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ ایسے اندازے لگائے گئے ہیں کہ ترکی شمالی افریقی دوست ممالک کے ساتھ اپنے روابط کو مستحکم کر کے توانائی کے ذخائر تک پہنچنے کی خواہش رکھتا ہے۔

یہ سمجھوتا اس لیے بھی اہم ہے کہ لیبیا میں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کے سربراہ وزیراعظم فائز السراج کو بین الاقوامی حمایت کی اشد ضرورت تھی کیونکہ پچھلے آٹھ ماہ سے انہیں داخلی انتشار کا سامنا ہے۔ رواں برس اپریل سے جنگی سردار خلیفہ حفتر کی لیبین نیشنل آرمی نے دارالحکومت طرابلس پر قبضہ کرنے کے لیے چڑھائی کر رکھی ہے۔ بظاہر ابھی تک حفتر کی خواہش ادھوری ہے کیونکہ ان کی فوج کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ ہفتر کو سعودی عرب اور مصر جیسے ممالک کی حمایت بھی حاصل ہے جبکہ ترکی ان کی خواہشات کے برعکس فائز السراج کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ لیبیا میں قطر بھی ترکی کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے کمیونیکشن ڈائریکٹر فرحت دین التون نے رواں ہفتے کے دوران ایک ٹویٹ میں واضح کیا تھا کہ ترکی اور لیبیا کے درمیان فوجی تعاون بڑھنے سے لیبیائی عوام کو جنگی خطرات سے بچاؤ حاصل ہو گا اور اُن کے ملک کے اندر سلامتی کی صورت حال بہتر ہو گی۔ دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والی فوجی ڈیل تو بدھ ستائیس نومبر کو طے پائی تھی لیکن تفصیلات عام نہیں کی گئی ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اترك تعليقاً

This site is protected by wp-copyrightpro.com