مہاجرین میں انگلینڈ جانے کا رجحان بڑھ گیا، برطانیہ کو تشویش۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برطانیہ نے کہا ہے کہ مہاجرین کی جانب سے غیر قانونی طور پر رُود بارِ انگلستان کو عبور کرنے کے واقعات میں اضافے پر لندن حکومت کو ’شدید تحفظات‘ ہیں۔

برطانوی سرحدی حکام کو جمعرات کے روز ملک کے جنوب مشرقی ساحلی شہر ’کینٹ‘ سے تین مختلف مقامات پر تیئس  کے قریب ایرانی باشندے ملے تھے۔ اس سے چند گھنٹے قبل ہی فرانسیسی بحری حکام نے سمندری گزرگاہ انگلش چینل میں خستہ حال کشتیوں پر سوار گیارہ  تارکین وطن کو امدادی کارروائی کرتے ہوئے ڈوبنے سے بچایا تھا۔

اس حوالے سے برطانوی وزیر برائے مہاجرت کیرولین نوکس کا کہنا تھا،’’ حالیہ دنوں میں انگلش چینل کو غیر قانونی طریقے سے عبور کرنے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس پر برطانیہ کو تشویش ہے۔ ان میں سے کچھ تو واضح طور پر منظم جرائم پیشہ گروہوں کے ذریعے پلان کیے جاتے ہیں جبکہ کچھ انفرادی طور پر موقع دیکھتے ہوئے سمندر پار کر کے انگلستان پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘

اس تناظر میں سب سے پہلے جمعرات کے روز کینٹ کے قصبے میں ایک ساحل سے ملنے والے گیارہ ایرانی مہاجرین تھے جو شمالی فرانس سے چار میٹر لمبی ربڑ کی کشتی پر یہاں تک پہنچے تھے۔

برطانوی وزارت داخلہ کے مطابق ہر تارک وطن کوطبی امداد دی جا چکی ہے۔ ملکی وزارت داخلہ نے بیان میں مزید کہا ہے کہ تمام بالغ مہاجرین کو انٹرویو کی غرض سے امیگریشن حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ اُن کے ہمراہ آنے والے بچوں کو سوشل سروس مہیا کرنے والے اداروں کو منتقل کر دیا گیا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اترك تعليقاً

This site is protected by wp-copyrightpro.com