مہاجرین کو بہتر سہولیات مہیا کرنے کے لیےیونان پر یورپی یونین کی جانب سے ایک بار پھر دباؤ ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سنہ 2016 کے یورپی یونین اور ترکی کے درمیان ہونے والے معاہدے نے ترکی کے قریب یونانی جزیروں پر شامی پناہ گزینوں کے داخلے سے پیدا ہونے والے بحران کو کم کرنے میں مدد فراہم کی تھی۔

تاہم جزیرے لیسبوس کے علاقے موریا پر تارکین وطن سے بھرے ایک کیمپ میں صورتحال اب بھی کشیدہ ہے۔ نوجوان تارکین وطن کی بدھ کے روز وہاں یونانی پولیس سے جھڑپ بھی ہوئی ہے۔

میڈیسنز سنز فرنٹیئرز (ایم ایس ایف) نامی امدادی گروپ کا کہنا ہے کہ یورپ میں تحفظ کے متلاشی لگ بھگ 24000 افراد اب ‘خوفناک صورتحال میں یونانی جزیروں پر پھنس گیے ہیں۔’

ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ سنہ 2016 کے بعد سے اب تک ان جزیروں پر سمندر کے راستے آنے والے پناہ گزینوں کی اتنی بڑی تعداد دیکھنے کو نہیں ملی جتنی اب ہے اور اس امدادی گروپ کے مطابق لیسبوس پر ایم ایس ایف کے قائم کردہ طبی مرکز میں 100 سے زیادہ بچے پیچیدہ یا دائمی طبی امراض کا شکار ہیں۔

یورپی یونین میں یونان پر زور دیا ہے کہ کہ پناہ گزین کیمپوں میں مہاجرین کو بہتر سہولیات مہیا کی جائیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اترك تعليقاً

This site is protected by wp-copyrightpro.com