مہاجرین کے لیے نیا جرمن لیبر قانون تنقید کی زد میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جرمن ارکان پارلیمان کے منظور کردہ قانون کا مقصد یہ کہ تارکین وطن کے جرمن معاشرے میں انضمام کو آسان بنانا ہے لیکن ساتھ ہی سیاسی پناہ کے ناکام امیدواروں کی ملک بدری کی راہ بھی ہموار ہو گی۔

دانش مرزا 2015ء میں جرمنی آئے اور سیاسی پناہ کی درخواست جمع کرا دی۔ انہوں نے جرمن زبان سیکھی اور ایک ایسا بیڈمنٹن کلب کی رکنیت حاصل کر لی جس نے انہیں جرمنی میں زندگی گزارنے میں مدد فراہم کی۔ پاکستان میں اپنی نرسنگ ڈگری کی بدولت انہیں اسی شعبے میں مزید تربیت کا موقع ملا جس کے بعد انہیں ایک بزرگ افراد کے گھر میں مستقل ملازمت مل گئی۔

اب دو برس بعد دانش مرزا مزید تربیت حاصل کر کے باقاعدہ طور پر بزرگ افراد کے لیے نرسنگ کرنا چاہتے ہیں

دانش مرزا کو جرمنی کے شمال مشرقی شہر شویٹ کے ٹاؤن ہال میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل سے ملاقات کا موقع ملا جس میں میرکل نے وعدہ کیا کہ وہ ہنر مند افراد کی سیاسی پناہ کے طریقہ کار کو بہتر کرنے کے لیے جلد قانون سازی کریں گی۔ اور آج جمعہ سات جون کو جرمن  پارلیمنٹ نے ایک نئی پالیسی پیکج کو قانون کی شکل دے دی ہے۔

اس میں ’گے اورڈنیٹے- رؤک کہیر- گیزسٹس‘ بھی شامل ہے جس کا مطلب ہے ملک میں بسانے کا منظم قانون ۔ تاہم بہت سے قانونی ماہرین اور جرمنی کی لیفٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل ژؤرگ شنائیڈر کا کہنا ہے کہ یہ قانون غیر آئینی ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ سیاسی پناہ کے متلاشیوں کو ملنے والی مراعات کا ان کی طرف سے حکام سے تعاون نہ کرنے کی صورت میں خاتمہ، یا ان کی ملک بدری سے قبل ہی انہیں حراست میں رکھنا اور باقاعدہ جیلوں میں رکھنے جیسے اقدامات دراصل جرمن آئین کی خلاف ورزی ہیں۔

اس قانونی پیکج میں ایک ایسا قانون بھی ہے جس کا مقصد ہنر مند غیر یورپی غیر ملکیوں کو جرمنی کی لیبر مارکیٹ کا حصہ بنانے کے عمل میں آسانی فراہم کرنا ہے۔ اس سے وہ لوگ بھی فائدہ اٹھا سکیں گے جنہوں نے سیاسی پناہ کی درخواست دے رکھی ہو اور وہ بھی جو کسی تیسرے ملک میں ورک ویزا کے لیے اپلائی کرتے ہیں۔

مگر ایک امیگریشن ایکسپرٹ پروفیسر ہیلن شیونکن کا کہنا ہے کہ مختلف قوانین کا یہ پیکج ملا جلا پیغام دے رہا ہے: ’’ایک قانون اچھے طریقے سے تارکین وطن کو خوش آمدید کہہ رہا ہے تو ایک اور کا مطلب ہے کہ تارکین وطن کے لیے تربیت کا حصول یا کام کی اجازت حاصل کرنا مشکل بلکہ تقریباﹰ ناممکن بنا دیا جائے گا۔‘‘

جرمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری DIHK نے تاہم حکومت کی طرف سے سیاسی پناہ کے متلاشیوں کے حوالے سے قوانین کو آسان بنانے کی پارلیمانی کوشش کو سراہا ہے۔ کیونکہ اس وقت ملک میں چار لاکھ کے قریب سیاسی پناہ کے متلاشی جن کی اکثریت 2015ء میں جرمنی آئی تھی، اس وقت پیشہ ورانہ تربیت حاصل کر رہے ہیں یا پھر وہ ملازمت اختیار کر چکے ہیں۔ تاہم اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ ان میں بعض لوگوں کو نئے قوانین کے تحت ملک بدر کر دیا جائے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اترك تعليقاً

This site is protected by wp-copyrightpro.com