ناروے حکومت ٹوٹ گئی۔وجہ ایسی کہ سب داد دینے لگے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک جہادی کی اہلیہ کو شام سے واپس لانے کے فیصلے کے بعد ناروے کی عوامیت پسند پارٹی نے حکومتی اتحاد سے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس خاتون کا بچہ شدید بیمار ہے اور اسے علاج کے لیے واپس لایا جا رہا ہے۔
ناروے میں دائیں بازو کی جماعت پروگریس پارٹی نے پیر کے روز حکومتی اتحاد سے الگ ہو جانے کا اعلان کر دیا۔ اس عوامیت پسند جماعت نے یہ فیصلہ اس خاتون کو واپس ناروے لانے کے حکومتی فیصلے کے بعد کیا، جس پر الزام ہے کہ اس نے شام میں دہشت گرد گروپوں کی حمایت کی تھی۔

ناروے کی خاتون وزیر خزانہ سیو جنسن کا ایک نیوز کانفرنس میں کہنا تھا کہ حکومت میں رہتے ہوئے ان کے لیے اپنی جماعت کی پالیسیوں پر کاربند رہنا مشکل ہو گیا تھا۔ انہوں نے کہا، ”میں اپنی جماعت کو حکومت میں لائی تھی اور میں ہی اب حکومت چھوڑ کر جا رہی ہوں۔‘‘

اس اعلان کے ساتھ ہی ناروے کی قدامت پسند خاتون وزیر اعظم ایرنا سولبرگ کو حاصل پارلیمانی اکثریت بھی ختم ہو گئی ہے۔ اس اعلان کے کچھ دیر بعد ہی وزیر اعظم نے کہا کہ وہ فی الحال اقلیتی حکومت کی سربراہ کے طور پر وزیر اعظم کے عہدے پر کام کرتی رہیں گی۔ لیکن یہ واضح ہے کہ ان کے لیے اب حکومت کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ ناروے کا آئین قبل از وقت انتخابات کی اجازت نہیں دیتا اور آئندہ پارلیمانی الیکشن ستمبر دو ہزار اکیس میں ہوں گے۔

ایک خاتون کی واپسی کا تنازعہ
گزشتہ ہفتے ناروے کی کابینہ نے شام میں موجود اپنی ایک ہم وطن خاتون کو اس کے دو بچوں کے ہمراہ واپس ناروے لانے کی منظوری دے دی تھی تاکہ اس کے پانچ سالہ بیمار بچے کا علاج کیا جا سکے۔ یہ تینوں اس وقت شام میں کردوں کے زیر کنٹرول الحول مہاجر کیمپ میں رہ رہے ہیں۔ ناروے کی شہری یہ خاتون سن دو ہزار تیرہ میں ملک چھوڑ کر شام چلی گئی تھیں۔ ان پر شبہ ہے کہ وہ جہادی تنظیم داعش کی کارکن رہ چکی ہیں۔

وکیل دفاع کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون ان الزامات کی مکمل طور پر تردید کرتی ہیں اور پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کے لیے تیار ہیں۔ ناروے کی پروگریس پارٹی نے بچوں کو طبی امداد فراہم کرنے کی تو حمایت کی تھی لیکن یہ جماعت ایسے تمام بالغ افراد کی مدد کرنے کے خلاف ہے، جنہوں نے غیرملکی جہادیوں سے شادیاں کیں یا پھر جہادی گروپ داعش میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔

صرف ناروے ہی نہیں یورپ کے زیادہ تر ممالک میں اس وقت یہ تنازعہ پایا جاتا ہے کہ داعش میں شمولیت کے لیے شام یا عراق جانے والے افراد یا ایسے افراد سے شادیاں کرنے والی یورپی خواتین کو واپس آنے کی اجازت دی جائے یا نہیں۔

گزشتہ برس نومبر میں جرمنی نے بھی ایک ایسی خاتون کو اپنے تین بچوں کے ہمراہ واپس آنے کی اجازت دے دی تھی، جس پر شبہ تھا کہ وہ داعش کی رکن تھی۔ فن لینڈ کی حکومت نے بھی حال ہی میں اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ ممکنہ وطن واپسی کے ایسے ہر کیس کی انفرادی سطح پر جانچ پڑتال کی جائے گی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com