وادی اردن میں تیرہ پاکستانیوں کی ہلاکت۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اردن کے ایک زرعی رقبے پر ايک عارضی رہائش گاہ میں لگنے والی آگ سے تیرہ پاکستانی جل کر ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام ابھی تک آگ لگنے کے محرکات بتانے سے قاصر ہیں۔

اردن کے محکمہٴ شہری دفاع کے مطابق ایک زرعی رقبے پر لگنے والی آگ کی لپیٹ میں آنے سے کم از کم تیرہ پاکستانی ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان میں آٹھ بچے بھی شامل ہیں۔ بقیہ ہلماک ہونے والوں میں چار عورتیں اور ایک مرد شامل ہیں۔ وادیٴ اردن کے علاقے میں لگنے والی آگ نے رہائش کے عارضی انتظام کو جلا کر خاکستر کر دیا

مقامی انتظامی اہلکاروں کے مطابق اِس عارضی رہائشی علاقے میں آگ نصف شب کے وقت بھڑکی۔ سکیورٹی حکام نے شواہد جمع کرتے ہوئے اپنی تفتیش شروع کر دی ہے۔ جلی ہوئی نعشوں کو امدادی ورکروں نے جمع کر کے ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔ ابھی تک آگ لگنے کی ٹھوس وجوہات کا تعین نہیں کیا جا سکا ہے۔

اردنی محکمہٴ سول ڈیفنس کے ترجمان ایاد العمر نے بتایا ہے کہ بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ آگ لگنے کی وجہ بجلی کا شارٹ سرکٹ ہو سکتا ہے۔ آگ وادیٴ اردن کے ایک گاؤں الشعاع الجنوبیہ میں لگی۔ یہ گاؤں دریائے یرموک اور دریائے اردن کے سنگم کے قریب واقع ہے۔ مرنے والوں کا تعلق دو خاندانوں سے تھا۔ ان کے نام بھی ظاہر نہیں کیے گئے ہیں۔

وادیٴ اردن ایک زرخیز زرعی علاقہ ہے جہاں ہزاروں غیر ملکی تارکین وطن روزگار کے حصول کے لیے انتہائی نامساعد حالات میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ دن بھر وہ کھیتوں میں کام کرتے ہیں اور رات گزارنے کے لیے اُن کے پاس مستقل اور مناسب رہائش نہیں۔ وہ عارضی بند وبست کر کے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اترك تعليقاً

This site is protected by wp-copyrightpro.com