پاکستانی ڈاکٹروں نے مصنوعی جلد تیار کرلی۔

  • 40
  •  
  •  
  •  
  •  
    40
    Shares

پاکستانی ڈاکٹروں نے دعوٰی کیا ہے کہ انہوں نے مقامی سطح پر بیالوجیکل مصنوعی جلد تیار کر لی ہے۔

ڈاکٹر جاوید اکرم کے مطابق مقامی طور پر تیار کی جانے والی جلد کے پیوند کی قیمت ایک ہزار پاکستانی روپے سے کم ہے۔

بیالوجیکل مصنوعی جلد کیا ہے؟

لاہور کے جناح ہسپتال کے برن سنٹر میں قائم ایک لیبارٹری میں ڈاکٹر رؤف احمد ان دنوں مصنوعی جلد کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے مالکیولر بایالوجی میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔

 انہوں نے بتایا کہ جلد کے دو اقسام کے مصنوعی نعم البدل ہو سکتے ہیں۔ ایک بیالوجیکل یا حیاتیاتی اور دوسرا سینتھیٹک یعنی کیمیاوی ترکیب سے بنائی گئی۔

سِنتھیٹیک جلد کا نقصان یہ ہے کہ ایک تو اس کا انسانی خلیوں کے ساتھ جُڑنا مشکل ہوتا ہے، دوسرا اس کی حیت کو زیادہ لمبے عرصے تک قائم رکھنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ لگ جانے کے بعد اس کے خراب ہونے کے امکانات بھی ہوتے ہیں۔

جلد کا جو نعم البدل ڈاکٹر رؤف نے تیار کیا ہے وہ بیالوجیکل جلد ہے۔ یہ قدرتی جلد کے قریب ترین ہوتا ہے یعنی ’تقریباً قدرتی جلد جیسا ہی ہوتا ہے۔‘

ڈاکٹر رؤف کے مطابق پہلے مرحلے میں مختلف کیمیکلز کی مدد سے جلد کے اوپری حصے سے تہہ ہٹائی جاتی ہے یعنی تکنینی اصطلاح میں اسے ڈی ایپی ڈرملائز کیا جاتا ہے۔ اگلے مرحلے میں اسے ڈی سیلولیرائز کیا جاتا ہے۔

’ان دونوں مراحل کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس میں موجود ہر قسم کے وائرس وغیرہ کو ہٹا دیا جائے اور اسے مدافعتی (سسٹم کی طرف سے) مسترد ہونے سے بچایا جا سکے۔‘

اگلے مرحلے میں اسے سٹیرلائز کیا جاتا ہے تا کہ اسے جراثیم سے پاک رکھا جائے۔ ان تمام مرحلوں کو مختلف مشینوں کی مدد سے سر انجام دیا جاتا ہے۔

یو ایچ ایس کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا ہے کہ انہوں نے جینیاتی امراض پر تحقیق کی غرض سے ملک کی مختلف لیبارٹریوں پر مشتمل ایک شراکت قائم کر رکھی ہے۔ ’اس طرح ہمیں مختلف لیبارٹریوں میں موجود میشنیں استعمال کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔‘

یہ جلد اتنی سستی کیوں ہے؟

ڈاکٹر رؤف کے مطابق اس کی وجہ دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ وہ کیمیکلز یا کیمیائی مادہ ہیں جنہیں استعمال کر کے یہ جلد تیار کی جاتی ہے۔ ان کی لیبارٹری کی مختلف اداروں کے ساتھ شراکت داری ہے جہاں سے وہ کیمیکلز حاصل کرتے ہیں۔

’پاکستان کے لحاظ سے میں نے کوشش کی کہ ایسے کیمیکلز استعمال کیے جائیں جو کام بھی وہی دیں اور مہنگے بھی نہ ہوں۔‘

وہ مصنوعی بیالوجیکل جلد کا ایک پیوند آٹھ دن میں تیار کر پاتے ہیں۔ پاکستان میں ہمارے پاس بلڈ بینکس کی طرح جلد کا بینک نہیں ہے ’ورنہ ہم زیادہ جلدیں تیار کر سکتے ہیں۔‘

چھوٹے پیمانے پر تیار ہونے والی جلد برن سنٹر کی حد تک تو استعمال میں لائی جا سکتی ہے مگر کاروباری بنیاد پر نہیں۔

مقامی ہے تو کیا درآمد شدہ سے کم تر ہے؟

ڈاکٹر رؤف کا دعوٰی ہے کہ انہوں نے مقامی طور پر تیار کی جانے والی جلد کا موازنہ یورپ اور امریکہ سے درآمد شدہ جلدوں سے کیا ہے اور ’وہ باالکل اسی معیار کی ہے، بلکہ کچھ پہلوؤں پر ان جلدوں سے بہتر بھی ہے۔‘

ڈاکٹر جاوید اکرم نے بتایا کہ وہ اسے یو ایس ایف ڈی اے یعنی امریکہ کے ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن سے منظور کروا چکے ہیں۔ ’ہم نے ابتدائی طور پر اسے تقریباً 18 مریضوں پر کامیابی سے استعمال کیا ہے۔‘

اگلے مرحلے میں اسے پہلے جانوروں اور پھر بڑے پیمانے پر انسانوں پر آزمایا جائے گا۔ اس کے بعد یہ کاروباری سطح پر تیار کیے جانے کے لیے دستیاب ہو گی۔

مگر کیا یہ عام آدمی تک پہنچ پائے گی؟

ڈاکٹر جاوید کا ماننا ہے کہ کاروباری سطح پر اس کی تیاری ہی سب سے کٹھن مرحلہ ہو گا۔ اس کی وجہ ان کے مطابق ’امپورٹ مافیا‘ ہے۔ ایک تلخ تجربے سے وہ پہلے گزر چکے ہیں۔

’جو کپمنی سالانہ اربوں روپے کی ادویات درآمد کر رہی ہو وہ کبھی نہیں چاہے گی کہ اس کا وہ کاروبار بند ہو جائے۔‘

ان کی مشکل تب زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ پاکستان میں کوئی ایسا طریقہ کار موجود نہیں جس کے ذریعے اِن ایجادات کو کم قیمت پر کاروباری سطح پر تیار کروایا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنا کام کر دیا۔ اب یہ حکومت کا کام تھا کہ وہ اس سستی بیالوجیکل مصنوعی جلد کو کاروباری سطح پر تیار اور دستیاب کروائے۔

اس قدر بڑے پیمانے کا کام حکومتی سطح پر ہی ممکن ہے۔ ’اگر حکومت ایسا نہیں کرتی تو پھر پاکستان میں اسی سائنسی تحقیقات کرنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں۔‘

ڈاکٹر جاوید اکرم کہتے ہیں انہیں امید تھی کہ ’نئے پاکستان میں حکومت اس جانب توجہ دے گی۔‘

ان کا اور ان کے ساتھیوں کا مقصد صرف یہ تھا کہ ’پاکستان میں کسی غریب کو جان بچانے کے لیے مصنوعی جلد کے حصول کے لیے بھیک نہ مانگنی پڑے۔‘


  • 40
  •  
  •  
  •  
  •  
    40
    Shares

اترك تعليقاً

This site is protected by wp-copyrightpro.com