پاکستان کے مختلف شہروں میں شدید زلزلہ، 19جاں بحق، 300 زخمی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آزاد کشمیر اور دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں شدید زلزلے کے نتیجے میں خاتون سمیت 19 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہوگئے، زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5 اعشاریہ8 ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی گہرائی زیرِ زمین 10 کلو میٹر تھی۔

زلزلہ پیما مرکز کا کہنا ہے کہ سہ پہر 4 بج کر 2 منٹ پر آنے والے زلزلے کا مرکز جہلم کا شمالی علاقہ تھا۔

ریسکیو ٹیمیں زلزلے سے متاثرہ شہروں میں پہنچ گئیں، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے 10 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔

زلزلے سے میرپور آزاد کشمیر اور جہلم کا درمیانی علاقہ جاتلاں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

زلزلے کے جھٹکے آزاد کشمیر، صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں بھی محسوس کئے گئے۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق آزاد کشمیر میں میر پور، سماہنی اور بھمبھر میں بھی جھٹکے محسوس کیے گئے، میر پور آزاد کشمیر میں زلزلے کے شدید جھٹکوں کے باعث کئی مکانات گر گئے۔

ڈپٹی کمشنر میر پور آزاد کشمیر نے زلزلے کے باعث ایک خاتون کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی اور بتایا کہ خواتین اور بچوں سمیت 50 سے زائد افراد زخمی ہوگئے جبکہ ایک مسجد کے مینار بھی شہید ہوگئے ہیں۔

پنجاب میں خوشاب، سرگودھا، فیصل آباد، گوجرانوالہ، میانوالی، منڈی بہاؤالدین، ملتان، اوکاڑہ، قصور، خانیوال، گجرات، کامونکی، مریدکے، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، ساہیوال، پتوکی، چونیاں، پاکپتن، دیپالپور، حجرہ شاہ مقیم، نارنگ منڈی اور سیالکوٹ میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ خیبرپختونخوا میں پشاور، چارسدہ، سوات، خیبر، ایبٹ آباد، باجوڑ، نوشہرہ، مانسہرہ، بٹ گرام، تورغر، شانگلہ، بونیر، دیر، اپر دیر، لوئر، چترال، مالاکنڈ اور کوہستان میں بھی زلزلے کی جھٹکے محسوس کیے گئے۔

زلزلے کے جھٹکے 15 سے 20 سیکنڈ تک محسوس کیے گئے، جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور وہ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔

یاد رہے کہ 8 اکتوبر 2005 کی صبح آزاد کشمیر میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں آزاد کشمیر اور شمالی علاقوں میں 80 ہزار سے زائد افراد جاں بحق اور ڈیڑھ لاکھ کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔زلزلے کا مرکز مظفرآباد سے 20 کلومیٹر شمال مشرق میں تھا اور اس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7 اعشاریہ 6 ریکارڈ کی گئی تھی۔

 


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اترك تعليقاً

This site is protected by wp-copyrightpro.com