کورونا وائرس پاکستان کی سرحدوں پر پہنچتا ہوا.

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چین کے بعد پاکستان کے دو اور ہمسایہ ممالک افغانستان اور ایران میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ ایران میں کووڈ انیس بیماری سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد ایک درجن تک پہنچ گئی ہے۔
ایران کے وزیر صحت سعید نمکی نے تصدیق کی ہے کہ چین میں جنم لینے والی کورونا وائرس کی نئی قسم سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد بارہ ہو گئی ہے۔ وزارت صحت کے ايک ترجمان نے بتایا کہ پیر چوبیس فروری کو مزید اکسٹھ افراد میں کووڈ انیس وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ ایرانی محکمہ صحت کے مطابق دو مریضوں کو شفایابی کے بعد ہسپتال سے ڈسچارج بھی کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایران میں ہونے والی ہلاکتوں کے حوالے سے قم شہر سے رکن پارلیمان احمد امیری آبادی فرحانی نے حسن روحانی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ مرنے والے افراد کی صحیح تعداد چھپانے کی مرتکب ہوئی۔ انہوں نے ہلاکتوں کی تعداد پچاس بتائی ہے۔ یہی تعداد غیر ملکی میڈیا نے بھی بتائی ہے، جس کی ایرانی حکومت کے نائب وزیر صحت نے تردید کی تھی۔

ایران سے واپس پہنچنے پر کویت اور بحرین میں مختلف زائرین میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے
پاکستان کے ایک اور ہمسایہ ملک افغانستان کے وزیر صحت ڈاکٹر فیروزالدین فیروز نے بتایا ہے کہ صوبے ہرات میں تین افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص کی گئی ہے۔ ہرات کی سرحد ایران سے بھی ملتی ہے۔ افغان وزیر صحت نے اس امرکی تردید کی کہ ملک میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ملکی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ہرات صوبے کے سفر سے اجتناب کریں۔ افغانستان نے اپنی ایران کے ساتھ سرحد کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔

خلیجی ریاستوں بحرین اور کویت میں بھی کووڈ انیس بیماری کے مریضوں کی شناخت ہوئی ہے۔ کویت کی وزارت صحت کے مطابق ایران سے تین شہریوں میں واپس پہنچنے پر وائرس کی علامات پائی گئيں۔ کویت پہنچنے والے باشندے مشہد کے مقدس مقامات کی زیارت کے بعد لوٹے تھے۔ کویت نیوز ایجنسی کے مطابق تین علیل افراد میں ایک سعودی شہری شامل ہے۔ اس دوران ایک اور خلیجی ریاست بحرین نے بھی اپنے ایک شہری میں اس وائرس کی تصدیق کی ہے۔ یہ بحرینی بھی ایران سے واپس آیا تھا۔

ایران سے پاکستان واپس آنے والے کئی شیعہ زائرین کو سرحدی قصبے میرجاوا میں روک دیا گیا ہے۔ پاکستانی صوبے بلوچستان کے محکمہ صحت نے بتایا کہ ایران کے ساتھ ملحقہ سرحدی علاقوں میں وائرس کے پھیلاؤ کے ممکنہ خدشے کے تناظر میں ہیلتھ ایمرجنسی کا نفاذ کر دیا گیا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ ہر سال ایران میں مقدس مقامات کی زیارتوں کے لیے پاکستان سمیت کئی دوسرے ممالک سے لاکھوں شیعہ زوار سفر اختیار کرتے ہیں۔

دوسری جانب چين نے جنگلی جانوروں کی تجارت اور انہيں کسی بھی طريقے سے پکانے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ پابندی پر عمل درآمد فوری طور پر شروع کر دیا گيا ہے۔ شبہ ہے کہ کورونا وائرس کی نئی قسم جنگلی جانوروں کے ذريعے ہی پھیلی تھی۔ چينی شہر ووہان سے پھيلنے والی يہ وبا اب تک ڈھائی ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت کا سبب بن چکی ہے جب کہ کووڈ انیس کے شکار افراد کی تعداد اسی ہزار سے زائد ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com