کورونا وائرس پہلے جیسا جان لیوا نہیں رہا: اطالوی ڈاکٹر کا دعویٰ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا بھر میں تباہی مچانے والے نوول کورونا وائرس سے متعلق اطالوی سینیئر ڈاکٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ اب یہ اپنی طاقت کھوتا جارہا ہے اور یہ اتنا جان لیوا نہیں رہا جتنا وبا کے آغاز پر تھا۔  

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق میلان کے سان ریفایلی اسپتال کے سربراہ ڈاکٹر البرٹو زینگریلو نے ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ حقیقت تو یہ ہے کہ طبی لحاظ سے یہ کورونا وائرس اب اٹلی میں موجود نہیں اور گزشتہ 10 دن کے دوران  ٹیسٹوں میں جو وائرل لوڈ دیکھا گیا وہ گزشتہ ایک یا دو ماہ قبل کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وائرس کی دوسری لہر کی خبریں اٹلی میں غیرضروری خوف پھیلانے کی وجہ بن رہی ہیں حالانکہ حقیقت میں یہ اپنی طاقت کھوتا جارہا ہے اور  اب پہلے کی طرح اتنا جان لیوا نہیں رہا۔

ڈاکٹر  البرٹو زینگریلو نے حکومت پر لاک ڈاؤن کی پابندیاں اٹھانے کے عمل کو جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں پھر سے معمول کی جانب لوٹنا ہے۔

اٹلی کے شہر جینوا کے سان مارٹینو اسپتال میں وبائی امراض کے  سربراہ میٹیو باسیٹی نے بھی ڈاکٹر البرٹو کی بات سے اتفاق کرتے ہیں۔

ڈاکٹر باسیٹی کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس اب اتنا جان لیوا نہیں رہا جتنا پہلے تھا، اس وائرس کی جو طاقت دو ماہ پہلے تھی وہ آج بہت کم رہ گئی ہے، یہ واضح ہے کہ آج یہ بیماری پہلے سے مختلف ہے۔

دوسری جانب اٹلی کی وزیر صحت ساندرا زمپا کا کہنا ہے کہ ان ڈاکٹروں کے دعوؤں کے حوالے سے شواہد ابھی ناکافی ہیں، شہری کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے سماجی دوری کی ہدایات پر عمل جاری رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ اب تک سائنسی شواہد سامنے نہیں آئے کہ وائرس اب غائب ہوچکا ہے۔”ہم اطالوی شہریوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ مکمل احتیاط کا مظاہرہ کرتے ہوئے سماجی دوری کو یقینی بنائیں۔”

واضح رہے کہ اٹلی کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ایک ہے جہاں کیسز کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 33 ہزار 19 اور اموات کی تعداد 33 ہزار 415 ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com