کیا گرم موسم کورونا وائرس کو روک دے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا درجہ حرارت بڑھنے سے کورونا وائرس کی نئی قسم کمزور ہو جائے گی؟ ماہر سمیات تھوماس پیٹشمان بتاتے ہیں کہ موسم بہار سے کیوں امیدیں وابستہ ہیں اور خواتین کیسے کووڈ انیس مرض سے مقابلہ مردوں کی نسبت بہتر طور پر کر سکتی ہیں۔
گرمی کی شدت بڑھنے سے کورونا وائرس کی وبا تھم جائے گی؟ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو نیا کورونا وائرس وبائی زکام کے وائرس جیسا ہو جائے گا۔ اس کے بعد درجہ حرارت میں اضافے سے مرض پھیلانے والا جرثومہ ختم ہو جائے گا جس سے COVID-19 مرض بھی رک جائے گا۔

موسم بہار اور گرمی کی شدت بڑھنے سے امیدیں تو وابستہ ہیں لیکن ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ نیا کورونا وائرس بھی وبائی زکام کے وائرس کی طرح کام کرے گا۔ وائرس سے متعلق امراض کے ماہر (وائرالوجسٹ) تھوماس پیٹشمان کا کہنا ہے کہ ماہرین اس بات کی پیش گوئی اس لیے نہیں کر سکتے کیوں کہ، ‘حقیقت یہ ہے کہ ہم اس وائرس کو ابھی تک نہیں جانتے‘۔

وائرس؟ نامعلوم!
اس ضمن میں جرمن شہر ہینوور کے ایک تحقیقی ادارے سے وابستہ تھوماس پیٹشمان کا مزید کہنا ہے، ‘‘اس وائرس کی خاص بات یہ ہے کہ انسانوں کو پہلی مرتبہ اس کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چین سے حاصل کردہ ڈیٹا سے ہم اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ یہ وائرس جانوروں سے ایک انسان تک پہنچا اور پھر وہاں سے پھیلنا شروع ہو گیا۔‘‘

وبائی زکام کے وائرس کے برعکس انسانوں کا مدافعتی نظام کورونا وائرس کے جرثومے کے حملے کے لیے تیار نہیں ہے۔

علاوہ ازیں بیرونی صورت حال بھی اس وائرس کے پھیلاؤ کے لیے مددگار ہے، جس میں ایک عنصر درجہ حرارت کا بھی شامل ہے۔ سانس کی نالی کے ذریعے پھیلنے والے وائرس کے لیے سرد موسم سازگار ہوتا ہے۔ پیٹشمان کا کہنا تھا، ”کم درجہ حرارت میں وائرس مستحکم ہوتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے فریج میں رکھا ہوا کھانا زیادہ دیر تازہ رہتا ہے۔‘‘

موسم جب سرد اور خشک ہو جائے!
موسم گرم ہونے کے ساتھ کئی وائرسوں کے لیے حالات سازگار نہیں رہتے۔ پیٹشمان نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا، ”کورونا وائرس کے گرد چربی کی تہہ ہوتی ہے جو گرمی کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ درجہ حرارت بڑھتے ہی تہہ ٹوٹ جاتی ہے۔‘‘

لیکن دیگر جرثوموں کے لیے درجہ حرارت ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر ڈینگی وائرس گرم مرطوب علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ لیکن اس سے یہ مراد نہیں کہ وائرس کو یہ موسم پسند ہے۔ اس معاملے میں وائرس لے جانے والا جاندار (مچھر) مرکزی کردار ادا کرتا ہے جب کہ درجہ حرارت کا کردار ثانوی ہے۔‘‘

سانس کی نالی سے متلعقہ وائرسوں کی منتقلی میں ہوا میں نمی کا تناسب بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ چھینکنے یا کھانسی کی صورت میں جرثومے باہر نکل کر ہوا میں عملی طور پر معلق ہو جاتے ہیں۔ پیٹشمان نے اس بارے میں بتایا ، ”زیادہ نمی کے مقابلے میں سرد اور خشک موسم میں وائرس ہوا میں زیادہ دیر تک معلق رہتا ہے۔‘‘

یوں سرد اور خشک موسم میں وائرس تیزی سے پھیلتا ہے۔ تاہم ابتدا میں یہ عمل بڑے خفیہ انداز میں ہوتا ہے اور جرثومے سے پہلے رابطے اور بیماری کی علامات ظاہر ہونے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

خواتین میں مزاحمت مردوں کے مقابلے میں زیادہ
بخار، کھانسی اور ٹھنڈ لگنا وائرل امراض کی علامات ہوتی ہیں جو ظاہر کرتی ہیں کہ جسم اس بیرونی حملے آور کے خلاف مزاحمت کر رہا ہے۔ اس مزاحمت کی شدت کا تعلق متاثرہ مریض کی عمر اور صحت کے ساتھ ساتھ جنس سے بھی ہے۔

اب تک کے دستیاب اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ خواتین میں کورونا وائرس کے خلاف مدافعت مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اسی وجہ سے مرد مریضوں میں شرح اموات 2.8 فیصد ہے جب کہ خواتین میں ہلاکتوں کی شرح 1.7 فیصد ہے

پیٹشمان کا اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے کہنا تھا، ”جرثومے کی نشاندہی کرنے والے مدافعتی نظام سے متعلق کچھ جینزایکس کروموسوم میں کوڈِڈ ہوتے ہیں۔ مردوں میں ایک ایکس کروموسوم ہوتا ہے جب کہ خواتین میں دو، اس لیے انہیں اس حوالے سے فوقیت حاصل ہے۔‘‘

شمالی کرہ ارض میں ممکنہ طور پر نئے کورونا وائرس کی وبا موسم بہار کے آغاز کے ساتھ تھم جائے گی۔ تاہم عالمی ادارہ صحت کے مطابق جنوبی کرہ ارض کے ممالک آسٹریلیا اور برازیل میں SARS-CoV-2 کے کئی مریض موجود ہیں، اور ان علاقوں میں ابھی خشک اور سرد موسم نے آنا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com