ہوائی سفر: ہر سال 25 ملین بیگ کیوں گم ہو جاتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایئرلائن انڈسٹری کا دعوٰی ہے کہ ہمارے سامان کو بحفاظت منزل تک پہنچانے کے معاملے میں اس کی صلاحیت میں بہتری آئی ہے اور کسی حد تک اس کی وجہ بہتر ٹریکِنگ ٹیکنالوجی یعنی سامان کے نقل و حمل کی نگرانی کرنے والا نظام ہے۔

اس کے باوجود ہر سال لاکھوں کی تعداد میں بیگ دوران سفر گم ہو جاتے ہیں۔

اس وقت بڑی کوفت ہوتی ہے جب تمام مسافر کیروسل پر سے اپنا سامان اتار کر اپنی راہ لیتے ہیں اور آپ اپنے بیگ کے انتظار میں کنویئر بیلٹ پر نظریں جمائے بے چینی سے اپنا وزن کبھی ایک اور کبھی دوسری ٹانگ پر ڈالتے ہیں۔

کیروسل ہچکی لے کر بند ہوجاتا ہے مگر آپ کے سوٹ کیس کا دور دور تک پتا نہیں ہوتا۔

آپ تنہا نہیں، ہوائی سفر کرنے والے ہزاروں افراد ہر سال اس تجربے سے دو چار ہوتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ہوائی سفر کی صنعت جو ہر طرح کی جدید سہولیات اور آلات سے لیس ہے ہمارے سامان کی حفاظت کے معاملے میں اتنی پسماندہ کیوں ہے؟

لیکن اچھی بات یہ ہے کہ اس معاملے میں گزشتہ چند برسوں کے دوران بہتری آئی ہے۔

سیٹا (ایس آئی ٹی اے) کا، جو ایئر انڈسٹری کو کمپیوٹر ٹیکنالوجی فراہم کرنے اور عالمی سطح پر سامان کی نقل و حمل کی نگرانی کرنے والی بڑی کمپنی ہے، کہنا ہے کہ 2007 میں 46.9 ملین بیگ اپنی منزل تک نہیں پہنچ پائے تھے۔ مگر 2018 میں یہ تعداد گھٹ کر 24.8 ملین ہوگئی تھی۔

اس عرصے میں ہوائی سفر کرنے والوں کی تعداد دگنی رہی۔

ٹریکنگ ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری سود مند رہی ہے۔

مثلاً امریکی ایئرلائن ڈیلٹا نے بار کوڈ کے ساتھ ایک آر ایف آئی ڈی (ریڈیو فریکوینسی آئیڈنٹی فیکیشن) ٹیگ لگایا ہے جو بیگ کے ہینڈل کے گرد لپیٹ دیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ بیگ جہاں جہاں سے گزرتا ہے خود کار طور پر سکین ہوتا چلا جاتا ہے۔

اس طرح سینٹرل مانٹرینگ سِسٹم میں بھٹکے ہوئے بیگ کو آسانی سے شناخت کر لیتا ہے۔

ڈیلٹا سے وابستہ گیرتھ جوئس کے بقول ‘آپ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ہم جو ہر سال 150 ملین بیگ ایک جگہ سے دوسری جگہ لے کر جاتے ہیں ان میں سے ہر ایک پر ایک ٹیگ لگا ہوتا ہے۔’

ڈیلٹا کا دعوٰی ہے کہ وہ اب 99.9 فی صد مسافروں کے سامان کو بالکل صحیح منزل پر پہنچاتے ہیں۔ دوسری ہوائی کمپنیاں بھی آر ایف آئی ڈی نظام اپنا رہی ہیں۔

مگر سالانہ 4.3 بلین بیگز میں سے 25 ملین اب بھی اپنے مالکوں تک نہیں پہنچ پاتے۔

گم ہونے والے بیگز کی آدھی تعداد پروازیں بدلنے کے دوران بھٹک جاتی ہے۔ اس طرح جب پرواز تاخیر کا شکار ہو جائے تو اس کا اثر بھی ایک سے دوسری پرواز پر پڑتا ہے اور آپ کا سامان اگلی پرواز تک پہنچ ہی نہیں پاتا۔ پھر بعض اوقات مسافروں یا سامان اٹھانے والوں کی جلدی یا لاپرواہی کی وجہ سے بھی کہیں کے بیگ کہیں پہنچ جاتے ہیں۔

ایک اور سبب ’ہنڈلنگ سسٹم‘ کا پیچیدہ ہونا بھی ہے۔ بعض ہوائی اڈوں پر تو ایئرلائن کے اپنے ملازمین ہی سامان کو صحیح مقام پر پہنچانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں جبکہ بہت سے ایئرپورٹس پر اس کام کا ٹھیکہ ایسی کمپنیوں کے پاس ہوتا ہے جن کا ایئرلائن سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے 1989 میں مسافروں کے ساز و سامان سے متعلق معیاری کوڈنگ متعارف کروائی تھی۔ جبکہ بار کوڈ 1950 سے مروج ہے۔ لیکن بعض چھوٹے ایئرپورٹس پر یہ لیبل بھی میسر نہیں۔

مثلاً ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کمپنی زیبرا کا کہنا ہے کہ اس نے حال ہی میں یونان کے چودہ ہوائی اڈوں کو 230 موبائل کمپیوٹر دیے ہیں تاکہ وہ لیبل پر موجود بار کوڈ کو پڑھ سکیں۔

پہلے یہ سارا کام کاغذ اور پینسل سے لیا جاتا تھا۔

نظام کو بدلنے کی ضرورت کافی عرصے سے محسوس کی جا رہی ہے۔

گزشتہ برس انٹرنیشنل ایئر ٹریول ایسوسی ایشن نے ایک نیا ضابطہ متعارف کروایا جس کی رو سے فضائی کمپنیوں اور ہوائی اڈوں کو سامان کی مزید بہتر نقل و حمل کا پابند کیا گیا۔ یعنی بیگز کی ترسیل کے ہر مرحلے پر تصدیق کی جائے گی۔ یعنی ایئرپورٹ سے جہاز اور جہاز سے ایئرپورٹ کے تبادلے کے دوران سامان کو چیک کیا جائے گا۔

اسی طرح مئی میں آر ایف آئی ڈی کو ہوائی صنعت میں ہر جگہ متعارف کروانے کی قرارداد بھی منظور کر لی گئی ہے جس سے تین بلین ڈالر کی بچت ہوگی۔

ویسے آپ نے کبھی سوچا کہ گمشدہ یا چوری ہوجانے والے سامان کا بنتا کیا ہے۔ سیٹا کے مطابق اس زمرے میں صرف پانچ فی صد سامان آتا ہے۔ تاہم جو بھی سامان ایئرپورٹ کے گمشدہ آفس میں پہنچتا ہے اسے چند ماہ تک وہاں رکھا جاتا ہے جس کے بعد اسے یا تو تلف کر دیا جاتا ہے یا نیلامی کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔

اگر آپ نے نیلامی میں کوئی ایسا بیگ خرید لیا تو تیار رہیں اس میں سے کچھ بھی برآمد ہو سکتا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اترك تعليقاً

This site is protected by wp-copyrightpro.com