’یورپی یونین کی مہاجر پالیسی انسانیت کے خلاف جرم‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یورپی وکلا کے ایک گروپ نے یورپی یونین کی مہاجر پالیسی کو ’انسانیت کے خلاف جرم‘ کے مساوی قرار دیا ہے۔ وکلا کی اس رپورٹ میں بین الاقوامی عدالت سے خصوصی ایکشن لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اس خصوصی رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ یورپی یونین کی مروجہ مہاجر پالیسی کے تحت چالیس ہزار سے زائد افراد کو بحیرہ روم میں روک کر واپس بھیجا گیا۔  الزام عائد کیا گیا ہے کہ یورپ پہنچنے کی خواہش رکھنے والے ان مہاجرین کی کشتیوں کو پکڑنے کے بعد ان کا رخ واپس موڑنے کے بعد کشتیوں پر سوار افراد کو لیبیا کی ساحلوں پر قائم حراستی کیمپوں یا اذیتی مراکز منتقل کر دیا گیا۔ وکلا نے اس عمل کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا ہے۔

اس خصوصی رپورٹ کے ایک مصنف وکیل خوان برانکو نے نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ اب بین الاقوامی فوجداری عدالت کی خاتون مستغیث اعلیٰ کی ہمت دیکھنا ہے کہ وہ پیش کردہ ثبوتوں کی بنیاد پر اپنا تفتیشی عمل شروع کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں یا پھر وہ ان مندرجات کو پڑھ کر بھی کوئی عملی قدم اٹھانے سے قاصر رہیں گی۔

برانکو نے مزید کہا کہ اگر بین الاقوامی فوجداری عدالت کی پراسیکیوٹر تفتیش کا عمل شروع کرتی ہیں تو پھر اس کی لپیٹ میں برسلز میں یورپی یونین کا صدر دفتر، پیرس میں ایمانوئل ماکروں کی حکومت، جرمن چانسلر انگیلا مرکل کے حکومتی فیصلے اور اٹلی کے دارالحکومت  روم میں عوامیت پسند حکومت کو لایا جائے گا۔ برانکو نے یہ بھی کہا کہ یورپی یونین کی پالیسی پر عمل سے چودہ ہزار تارکین وطن کی ناگہانی موت واقع ہوئی۔

اس رپورٹ پر صرف جرمن حکومت کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ برلن سے جرمن حکومت کے ترجمان اشٹیفان زائبیرٹ نے تارکین وطن سے متعلق چند وکلا کی خصوصی رپورٹ کے مندرجات کو مسترد کر دیا ہے۔ زائبیرٹ کے مطابق سمندر میں ہونے والی ہلاکتیں کے ذمہ دار انسانی اسمگلر ہیں اور لیبیا کے حراستی کیمپوں کے حالات سے یونین اور جرمن حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اترك تعليقاً

This site is protected by wp-copyrightpro.com