یورپ میں سالانہ 30 ارب یورو کی منشیات استعمال ہوتی ہے، ڈرگ رپورٹ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یورپین شہری ہر سال 30 ارب یورو کی منشیات استعمال کرتے ہیں۔ یہ معلومات آج برسلز میں ای یو مانیٹرنگ سینٹر فار ڈرگز اینڈ ڈرگز ایڈکشن اور یورپین پولیس کے ادارے یوروپول کی جانب سے مشترکہ طور پر جاری کردہ EU Drug Market Report 2019 میں بتائی گئی۔

اس رپورٹ میں منشیات کی تیاری، یورپ میں اس کی اسمگلنگ، تقسیم اور فروخت پر مشتمل ساری سپلائی چین کا جائزہ بھی لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کینابیز Cannabis (جسے اردو میں بھنگ کہا جاتا ہے) یورپ میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی منشیات ہے.

اسے 15سے 64 سال کے 25 ملین شہری استعمال کر رہے ہیں اور جس کی ریٹیل مارکیٹ میں مالیت 11.6 ارب یورو سے زائد بنتی ہے، اسی طرح دوسرے نمبر پر 9.1 ارب یورو مالیت کی کوکین استعمال کی گئی۔

اس رپورٹ کے مطابق 40 لاکھ یورپین شہریوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے گذشتہ سال منشیات کا استعمال کیا۔

رپورٹ کے اجراء کے موقع پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یورپین کمشنر برائے داخلی امور و مائیگریشن دیمتری اوراموپولس نے کہا کہ یورپ میں منشیات کی اس پیمانے پر فروخت منظم جرائم پیشہ گروہوں کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔

جس کی بین الاقوامی رسد کے لیے وہ جدید ٹیکنالوجی اور ذرائع نقل و حمل اختیار کر رہے ہیں۔ اسی طرح یورپین شہریوں کے لیے منشیات تک رسائی بھی پہلے سے زیادہ آسان ہے۔ اس کے لیے وہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ناجائز منشیات کی منڈی ہمارے شہریوں کی صحت اور ان کے تحفظ کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ اور اس رپورٹ میں جسطرح تمام صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے اس کے ذریعے (Gang Violence) یعنی اجتماعی تشدد، منشیات سے جڑے قتل، دہشت گردی، انسانی اسمگلنگ اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں کے یورپین معاشرے کے عوامی اور معاشی اداروں پر موجود دباؤ کا بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

اس رپورٹ کے تناظر میں منشیات کی کمائی کی منی لانڈرنگ کے ذریعے حقیقی تجارت کرنے والوں کی مشکلات بھی آشکار ہو رہی ہیں۔

پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے MCDDA کے ڈائریکٹر الیکسس گوزڈیل نے کہا کہ یہ رپورٹ پالیسی میکرز کیلئے واضح اشارہ ہے کہ وہ یورپ میں ناجائز منشیات کے بڑھتے ہوئے کاروبار کے خلاف جلد اقدامات کریں جو یورپ میں منشیات سے جڑے تشدد اور بدعنوانی کا بڑا ذریعہ ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یوروپول کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر Katherine De Bolle نے کہا کہ یوروپول اپنے آپریشنل کام اور ممبر ممالک سے حاصل انٹیلیجنس شراکت کے ذریعے اسمگلنگ میں واضح اضافے کو سامنے دیکھ رہا ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس کی روک تھام کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی لیے ہم منشیات کے کاروبار سے متعلق معلومات کے حصول کے لیے وسائل کا بڑا حصہ خرچ کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یورپ، کوکین کی دنیا کے دیگر حصوں مڈل ایسٹ اور ایشیا میں تقسیم اور سپلائی کی ایک ابھرتی ہوئی گزرگاہ کے طورپر بھی سامنے آرہا ہے۔ جبکہ 13 لاکھ ہیروئن پینے والوں کے ساتھ یورپ میں 7.4 ارب یورو کی ہیروئین بھی فروخت ہو رہی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق بلقان کا راستہ یورپ میں ہیروئین کے داخلے کا اہم کوریڈور ہے لیکن اس بات کے بھی شواہد ملے ہیں کہ نہر سوئیز سمیت شمالی راستہ بھی استعمال ہورہا ہے.


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اترك تعليقاً

This site is protected by wp-copyrightpro.com