یونانی النسل قبیلہ کیلاش اور رات کا رقص ’رت نٹ

  • 3
  •  
  •  
  •  
  •  
    3
    Shares

کیلاش میں بسنے والے لوگوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ سکندر کے ساتھ یونان سے آئے تھے اور یہیں پر آباد ہو گۓ  تھے۔

کیلاشی رات کے وقت ڈانس کا تہوار رت نٹ منانا شروع کرتا ہے۔

جیسے ہی جون میں گندم کے خوشے پک کر کٹائی کے لیے تیار ہو جاتے ہیں تو کیلاش میں رت نٹ کا آغاز بھی ہو جاتا ہے۔ یہ 22 اگست کو اوچاؤ فیسٹیول شروع ہونے تک جاری رہتا ہے۔

تین وادیوں بمبوریت، رمبور اور بریر پر مشتمل ضلع چترال کا حصہ کیلاش ایک خوبصورت علاقہ ہے۔ معدومیت کے خطرے کا شکار یہ قبیلہ اپنے منفرد مذہب، رسم و رواج اور لباس کی وجہ سے دنیا بھر میں اپنی الگ شناخت رکھتا ہے اور ہر سال ہزاروں سیاح اندرون اور بیرون ملک سے یہی رنگ دیکھنے کھنچے چلے آتے ہیں۔

اس وقت بمبوریت اور بریر میں جہاں جوار اور مکئی کی فصل تیاری کے مراحل میں ہے وہیں اخروٹ، ناشپاتی، سیب اور خوبانی بھی تیار ہونے کو ہیں۔

اچاؤ فیسٹیول نہ صرف ان فصلوں کی کٹائی اور پکے پھلوں کو اتارنے کے آغاز پر ہوتا ہے بلکہ یہ موسم گرما کے خاتمے کا اعلان بھی ہے۔

رت نٹ میں جہاں ایک ہی وادی کے چھوٹے بڑے گاؤں کے لوگ ملتے ملاتے ہیں وہیں دیگر وادیوں سے بھی مختلف خاندان اکھٹے ہو کر روایتی رقص اور ڈھول کی دھاپ سے لطف اندو ز ہوتے ہیں۔ اس موقع پر کیلاش میں ہی بسنے والے مسلمان اور علاقے اور بیرون ملک سے آنے والے سیاح بھی رت نٹ کو دیکھ سکتے ہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اگر کوئی مر جائے اور مرنے والا اگر کیلاشی عقیدہ چھوڑ کر اسلام یا کوئی اور مذہب اپنا چکا ہو تو تب بھی اس کے کیلاشی رشتے دار اس کے جانے کا سوگ مناتے ہیں۔

رت نٹ کے دوران کیلاش کے لڑکے اور لڑکیاں اپنا جیون ساتھی بھی چنتے ہیں۔

جب یہ خبر والدین کو ملتی ہے تو وہ کسی رشتہ دار کو بھجواتے ہیں۔ سب سے پہلے لڑکی سے سوال کیا جاتا ہے کہ کیا تم نے یہ شادی اپنی مرضی سے کی اگر لڑکی کا جواب ہاں میں ہو تو والدین کوئی باز پرس نہیں کرتے اور ان کی خوشی کو قبول کر لیتے ہیں۔ اور یہی ان کی شادی بھی ہوتی ہے جس میں لکھت پڑت اور مذہبی    رہنما کی موجودگی ضروری نہیں ہوتی۔

(بی بی سی اردو سے اقتباس)


  • 3
  •  
  •  
  •  
  •  
    3
    Shares

اترك تعليقاً

This site is protected by wp-copyrightpro.com

error: Content is protected !!