یونانی جزیرے لیزبوس میں دنیا کا بدترین مہاجر کیمپ۔

  • 13
  •  
  •  
  •  
  •  
    13
    Shares

لیزبوس کا موریا کیمپ جہاں دس دس سال کے بچے خود کشیاں کر رہے ہیں۔

یونان میں دنیا کا بدترین مہاجر کیمپ جہاں کمسن بچے خودکشی کی کوشش کرتے ہیں۔اس کیمپ میں جان لیوا تشدد کیا جاتا ہے گنجائش سے زیادہ لوگ ہیں ،صفائی کی صورتحال ابتر ہے۔

ہم ہر وقت یہاں سے نکلنے کے لیے تیار رہتے ہیں چوبیس گھنٹے ہم اپنے بچوں کو تیار رکھتے ہیں۔یہ کہنا ہے افغانستان سے تعلق رکھنے والی سارہ خان کا۔

سارہ نے بتایا کہ وہ اور ان کا خاندان سارا دن قطار میں لگ کر خوراک حاصل کرتا ہے اور رات بھر تشدد کی صورت میں بھاگنے کے لیے چوکنے رہتے ہیں۔

فلاحی تنظیم ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ یہاں بے پناہ رش ہوتا ہے جس کی وجہ سے اکثر یہاں خون خرابہ بھی ہوتا رہتا ہے۔یہ کیمپ 2 ہزار لوگوں کے لیے بنایا گیا تھا لیکن اب یہاں آٹھ ہزار لوگ رہ رہے ہیں۔بچوں میں خودکشی کے رجحان کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں پر کوئی بھی ماہر نفسیات موجود نہیں ہے۔فلاحی تنظیمیں کوشش کر رہی ہیں کہ بچوں کو ایتھنز منتقل کیا جا سکے لیکن ابھی تک اس سلسلے میں کامیابی نہیں مل سکی۔

ایک ماں نے بتایا کہ وہ اس جگہ اپنے بارہ دن کے بچے کے ساتھ رہتی ہے جہاں فرش پر پاخانہ پڑا ہوا تھا۔

اس کیمپ میں تشدد انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ عرب اور کردوں کے درمیان لڑائی کے باعث سینکڑوں کر دوں کو یہ جگہ چھوڑنی پڑی۔

علی جو اب اس کیمپ سے جا چکے ہیں انہوں نے بتایا کہ جب وہ اس کیمپ میں اپنے خاندان کے ساتھ آئے تو ہمیں پتہ چلا کہ یہاں پہلے سے فرقہ واریت نسل پرستی موجود تھی چاہے وہ سنی شیعہ کے درمیان ہو یا کرد عربوں یا افغان کے بیچ۔

انکا مزید کہنا تھا کہ شام میں باغیوں کے درمیان جاری لڑائی کیمپ کے دروازے تک آ گئی تھی۔انہوں نے بتایا یہ شام میں جاری لڑائی کی طرح ہے بلکہ اس سے بھی بدتر۔

بات بات پر یہاں لڑائی جھگڑا عام بات بن چکی ہے کھانا لینے کے لیے قطار میں لگے ہوئے لوگوں کے درمیان جھگڑے پر چاقو چھریاں چل جاتی ہیں۔

ایم ایس ایف کے رابطہ آفیسر لوکا فونٹانا کا کہنا تھا یہ وہ چیز ہے جس کا ہمیں مسلسل سامنا رہتا ہے۔اس کا مزید کہنا تھا کہ یہ کیمپ دنیا کا بدترین کیمپ بنتا جا رہا ہے

اس سے پہلے پناہ گزینوں کو یونانی سرزمین پر لے جایا جاتا تھا لیکن ترکی اور یورپی یونین کے درمیان معاہدے کے بعد انہیں لیزبوس جزیرے میں رکھا جا رہا ہے۔

مارچ 2016 اور جولائی 2017 کے درمیان 70000 پناہ گزینوں نے سمندر کے راستے یونان کا رخ کیا اس عرصے کے دوران صرف دو ہزار لوگوں کو واپس ترکی بھیجا گیا جبکہ باقی ماندہ ابھی تک لیزبوس جزیرے میں پھنسے ہوئےہیں۔

یہ کیمپ 2015 میں بنایا گیا اور اس کا مقصد تھا کہ اسے ٹرانزٹ پوسٹ کے طور پر استعمال کیا جائے گا لوگوں کا قیام محض چند دن کے لئے ہوگا لیکن اب کئی لوگ برسوں سے یہاں رہ رہے ہیں۔

یہ کیمپ یونان کی حکومت کے زیر اختیار ہے اور لوگوں کی تعداد اس لیے بڑھ رہی ہے کیو نکے یونان یورپ کی حدود میں رکھنے کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے لہذا وہ لوگوں کو اپنے ملک میں داخل کرنے کی بجائے یہیں پر محدود رکھ رہا ہے۔

یہ یورپی یونین اور ترکی کے درمیان معاہدے کا حصہ ہے جس کے مطابق ان افراد کو واپس بھیجا جائے گا اور یہ مارچ 2016 سے لاگو ہے۔

یونانی حکومت کے ترجمان جارج میتھائس موریا کی بدترین صورتحال کو تسلیم کرتے ہیں لیکن اس کا الزام یورپی یونین کے سر عائد کرتے ہیں۔

جارج میتھائس کہتے ہیں کہ ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں آپ یونان کی اقتصادی صورتحال سے واقف ہیں۔میں مدد کرناچاہتاہوں لیکن کچھ کر نہیں سکتا کیو نکہ یورپی یونین نے سرحدیں بند کر رکھی ہیں۔


  • 13
  •  
  •  
  •  
  •  
    13
    Shares

اترك تعليقاً

This site is protected by wp-copyrightpro.com