یونان میں ہزاروں پناہ گزین ابتر حالات میں محصور: ایمنسٹی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اس وقت یونان میں 46 ہزار سے زائد پناہ گزین اور تارکین وطن انتہائی ابتر حالات میں گھرے ہوئے ہیں۔

رواں سال سات مارچ کو مقدونیہ کی جانب سے سرحد بند کرنے کے بعد محصور ہوجانے والے پناہ گزینوں کی زیادہ تر تعداد عورتوں اور بچوں پر مشتمل ہے۔

اپنی تازہ رپورٹ ’یونان میں محصور پناہ گزینوں کا اجتناب پذیر بحران‘ میں انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر یورپی یونین کے ممالک بروقت اور صحیح طریقے سے کارروائی کرتے تو ان بڑھتے ہوئے مسائل سے گریز کیا جا سکتا تھا۔

ایمنیسٹی کا کہنا ہے کہ یونان میں پناہ گزینوں کے لیے مہیا کردہ عارضی رہائش کی جگہوں پہ گنجائش سے زائد لوگ رہنے پر مجبور ہیں، پناہ گزین مستقل غیر یقینی صورتِ حال اور خوف کی فضا میں رہ رہے ہیں۔ نہ تو ان کے پاس دوسروں کی نگاہوں سے اوجھل کوئی ذاتی جگہ ہے اور نہ گرمی پہنچانے والا کوئی نظام ہے یا بیت الخلا کی سہولت میسر ہے۔

یونان کے سرحدی گاؤں آئیڈومنی میں عارضی خیمہ بستی میں مقیم نو ماہ کی حاملہ شامی خاتون نے ایمنیسٹی انٹرنیشنل کو بتایا کہ ’یہاں صورت حال بہت خراب ہے اور ہم زمین پر سونے پہ مجبور ہیں۔ ہمارے کمبل بھی پانی سے گیلے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ بیمار پڑ رہے ہیں۔‘


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اترك تعليقاً

This site is protected by wp-copyrightpro.com