یونان: وزیر تعلیم اور مذہبی امور کوستاس گاوروغلو نے ایتھنز میں بننے والی پہلی مسجد کا دورہ کیا۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یونان کے وزیر تعلیم اور مذہبی امور کوستاس گاوروغلو  نے ایتھنز میں بننے والی پہلی مسجد کا دورہ کیا ۔

اس موقع پر کو ستاس گاوروغلو کا کہنا تھا کہ مذہبی فرائض کی ادائیگی ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کا بنیادی حق ہےاور اسی کے پیش نظر ان کی گورنمنٹ نے کافی عرصے سے رکی ہوئی مسجد جو کہ ایتھنز میں بنائی جا رہی تھی اس کی تکمیل کے لئے دن رات کوشش کی اور یہ انہی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ آج ہم اس مسجد میں کھڑے ہوئے ہیں۔

کوستاس گاوروغلو نے مزید کہا کی ایتھنز میں کافی عرصے سے ایک قبرستان کے لیے بھی کوششیں کی جارہی ہیں اور آج میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ سکستو کے علاقے میں ایک ہزار مربع میٹر جگہ قبرستان کے لیے مختص کی جا چکی ہے جس میں مسلمانوں کو دفن کرنے کے لیے قبرستان بنایا جائے گا اور میں امید کرتا ہوں کہ یہ بھی بہت جلد پایا تکمیل تک پہنچ جائے گا۔

اس موقع پر کوستاس گاوروغلو نے مسلمانوں کے نمائندوں سے بھی مختلف مذہبی اور سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا اور اور اس مسجد کی امامت کے لیے منتخب ہونے والے امام صاحب کو مبارکباد پیش کی۔

واضح رہے کہ مسجد کو کچھ مہینے پہلے عام لوگوں کے لیے کھول دیے جانے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن بہت سی سیاسی اور دفتری رکاوٹوں کی وجہ سے ایسا ہونا ممکن نہ ہو سکا اور اب وزیر تعلیم اور مذہبی امور کوستاس گاوروغلو نے کہا کے ستمبر تک مسجد کو کھولنے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا جس کے بعد عام مسلمان مسجد میں آکر نماز پڑھ سکیں گے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اترك تعليقاً

This site is protected by wp-copyrightpro.com