26 دسمبر کو سال کا آخری سورج گرہن‘ ہوگا۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوشل میڈیا سے لے کر درجنوں ویب سائٹس تک، جگہ جگہ یہ تذکرہ دکھائی دے رہا ہے کہ اس سال کا آخری سورج گرہن ’’تقریباً مکمل سورج گرہن‘‘ ہوگا اور اس دوران ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ جب دن میں رات جیسی تاریکی چھا جائے گی؛ اور یہ کہ پرندے بھی رات سمجھ کر اپنے اپنے گھونسلوں میں چلے جائیں گے۔ لیکن کیا یہ خبر واقعی درست ہے؟

یہ سچ ہے کہ 26 دسمبر کے روز ہونے والا سورج گرہن، پاکستان کے بیشتر علاقوں میں دیکھا جا سکے گا۔ یہ بھی صحیح ہے کہ بیس سال بعد کوئی سورج گرہن پاکستان میں دکھائی دے گا، لیکن یہ بات بہرحال درست نہیں کہ وہ ’’تقریباً مکمل سورج گرہن‘‘ ہوگا جس کے دوران دن میں رات جیسا منظر ہوجائے گا۔

نیچے دیا گیا نقشہ ’’ٹائم اینڈ ڈیٹ‘‘ نامی ویب سائٹ سے لیا گیا ہے۔ اس میں 26 دسمبر 2019 کے سورج گرہن کا راستہ دکھایا گیا ہے۔

درمیان میں گہرے رنگ (اورنج کلر) والی پتلی لکیر ان علاقوں کو ظاہر کرتی ہے جہاں مکمل سورج گرہن ہوگا۔ یہ گہری لکیر مشرقِ وسطی میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سے ہوتی ہوئی بحرِ ہند کی طرف بڑھتی ہے جہاں یہ ہندوستان کے انتہائی جنوبی حصے اور سری لنکا سے گزرتے ہوئے، مشرقِ بعید (فار ایسٹ) میں انڈونیشیا، ملائیشیا اور فلپائن سے ہو کر بالآخر بحرالکاہل میں جاکر ختم ہوجاتی ہے۔ یعنی یہ وہ تمام علاقے ہیں جہاں 26 دسمبر کے روز مکمل سورج گرہن ہوگا۔

اس پٹی سے اوپر اور نیچے، قدرے کم گہری رنگت والے حصے میں (جو خشکی پر پیلا اور پانی میں گہرا نیلا ہے) اگرچہ سورج گرہن خاصا نمایاں دکھائی دے گا لیکن پھر بھی وہ جزوی سورج گرہن ہی ہوگا۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس حصے میں تقریباً مکمل ایران اور نصف افغانستان کے علاوہ پاکستان کا جنوبی سے لے کر وسطی حصہ تک شامل ہیں۔

واضح رہے کہ مذکورہ سورج گرہن پاکستان کے جنوبی حصوں میں سب سے زیادہ نمایاں ہوگا، جن میں کراچی کے علاوہ پسنی اور گوادر بھی شامل ہیں۔ ان تینوں علاقوں میں بالترتیب 77 فیصد، 81 فیصد اور 82 فیصد سورج گرہن ہوگا۔

 


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com