یونان: خریسی اووگی کی ہار پر لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

یورپین پارلیمنٹ کے لئے ہونے والے انتخابات میں خریسی اووگی کی مقبولیت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی جس سے یونان کے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

یونان کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت خریسی اووگی پر الزامات ہیں کہ وہ ملک میں فسادات کو فروغ دینے میں مددگار رہے ہیں اور یونان کی آبادی کا بہت بڑا حصہ خریسی اووگی کی مخالفت میں انہیں ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کر چکا ہے۔

2014 کے مقابلے میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں خریسی اووگی کی مقبولیت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی اور اسی وجہ سے یورپین پارلیمنٹ میں خریسی اووگی کے صرف دو نمائندگان منتخب ہو کر یورپی یورپین پارلیمنٹ میں جا سکیں گے۔

اس کمی کے باوجود خریسی اووگی ابھی تک نوجوانوں میں کافی مقبول پارٹی دکھائی دیتی ہے ۔نوجوان جن کی عمریں 14 سے 24 سال کے درمیان ہیں کافی تعداد میں اسے ووٹ دیتے ہیں۔

ماضی میں خریسی اووگی سے تعلق رکھنے والا شخص ایک پاکستانی نوجوان کے قتل میں بھی ملوث تھا اس  جس کی پاداش میں خریسی  اووگی سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو عمر قید کی سزا بھی ہو چکی ہے۔

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com