زمین کے نظام شمسی سے باہر نئے سیاروں کی دریافت، ایک قابل رہائش

ماہرین فلکیات کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے زمین کے نظام شمسی سے باہر تین نئے سیاروں کا پتہ چلایا ہے۔ اکتیس نوری سال کے فاصلے پر ستاروں کے ایک جھرمٹ میں موجود ان سیاروں میں سے ایک ممکنہ طور پر قابل رہائش بھی ہو سکتا ہے۔

جرمنی کے شہر گوئٹنگن سے جمعرات یکم اگست کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق یہ بات ان ماہرین کی طرف سے فلکیاتی تحقیقی جریدے ‘ایسٹرانومی اینڈ ایسٹروفزکس‘ یا ‘فلکیات اور فلکیاتی طبیعیات‘ میں بتائی گئی ہے۔ ایسے سیاروں کو فلکیات کی اصطلاح میں ‘ایکسوپلینٹ‘ یا زمین کے نظام شمسی سے باہر پائے جانے والے سیارے کہا جاتا ہے، جن کی موجودگی کی تصدیق کرنے والے سائنسدانوں میں جرمن شہر گوئٹنگن کے محققین بھی شامل ہیں۔

ان ماہرین کے مطابق یہ تینوں سیارے زمین سے 31 نوری سال کے فاصلے پر واقع ستاروں کے ‘ہائیڈرا‘ نامی جھرمٹ کے ایک ستارے جی جے تین سو ستاون (GJ357) کے گرد اپنے مدار میں گردش میں ہیں۔

ان تین میں سے پہلے سیارے کو GJ 357 b کا نام دیا گیا ہے، جسے سائنسدان اپنے طور پر ‘گرم زمین‘ بھی کہہ رہے ہیں۔ اس لیے کہ وہاں درجہ حرارت کا تخمینہ 250 ڈگری سینٹی گریڈ تک لگایا گیا ہے۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ یہ سیارہ اپنے ستارے GJ 357 کے گرد گردش کرتے ہوئے اسے کافی حد تک اپنے سائے سے ڈھانپ بھی دیتا ہے اور یوں اس کی روشنی کی شدت بھی کم کر دیتا ہے۔

جرمنی میں گوئٹنگن یونیورسٹی کے فلکیاتی طبیعیات کے ادارے کے محقق اور اس موضوع پر ایک تحقیقاتی رپورٹ کے شریک مصنف شٹیفان ڈرائسلر کہتے ہیں، ”جی جے تین سو ستاون ڈی یعنی تین میں سے آخری سیارے پر درجہ حرارت کا زمین پر دستیاب جدید ترین آلات کی مدد سے تخمینہ منفی 53 ڈگری سینٹی گریڈ لگایا گیا ہے، جو بہت ہی کم یعنی منجمد کر دینے والا ٹمپریچر ہے۔ اس کے باوجود ہمارا خیال ہے کہ یہ سیارہ ممکنہ طور پر قابل رہائش ہو سکتا ہے۔‘

شٹیفان ڈرائسلر کے مطابق، ”اس سیارے کا اپنے ستارے سے خلائی فاصلہ تقریباﹰ اتنا ہی بنتا ہے، جتنا ہمارے نظام شمسی میں مریخ کا سورج سے فاصلہ۔ اہم بات یہ ہے کہ اگر اس سیارے کی فضا ‘مقید‘ یعنی بیرونی طبعی اثرات سے محفوظ ہے، جس کا مستقبل میں تعین کیا جا سکے گا، تو یہ اس حد تک حدت کو اپنے ہاں محفوظ رکھ سکے گا کہ یوں گرم ہو سکے اور اس کی بالائی سطح پر مائع پانی بھی پایا جائے۔‘‘

گوئٹنگن یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جس سیارے کے ممکنہ طور پر قابل رہائش ہونے کے اندازے لگائے جا رہے ہیں، اس کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اسے اس کے ستارے سے اتنی ہی اور مناسب توانائی ملتی ہے، جتنے ہمارے نظام شمسی میں سورج سے زمین کے ہمسایہ سیارے مریخ کو۔‘‘

ان تین میں سے جس درمیان والے سیارے کو GJ 357 c کا نام دیا گیا ہے، اس کا درجہ حرارت 130 ڈگری سینٹی گریڈ تک بنتا ہے اور اس کی کمیت زمین کی کمیت سے کم از کم بھی تین سے چار گنا تک زیادہ ہے

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com