اگلے برس ایک لاکھ سے زائد مہاجرین یونان کا رخ کر سکتے ہیں ایتھنز حکام نے پیشین گوئی کر دی۔

سیاسی پناہ کے متلاشی تارکین وطن کی یونانی جزائر لیسبوس اور ساموس پر آمد کا سلسلہ بدستور جاری ہے یہ بحران شدید ہوتا جا رہا ہے۔ ایتھنز حکام نے پیشن گوئی کی ہے کہ 2020ء میں ترکی سے مزید ایک لاکھ افراد یونان کا رخ کریں گے۔
یونانی حکومت کی جانب سے مہاجرین سے متعلق امور کے کمشنر مانوس لوگوتھیٹس نے کہا کہ بحران تو ابھی جاری ہے اور یہ معاملہ سنجیدہ ہے۔ انہوں نے جرمن فنک میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے مزید کہا کہ ان افراد کی آمد کے ساتھ مہاجرین کے مراکز پر دباؤ اور بڑھ جائے گا اور صورتحال مزید ابتر ہو جائے گی۔

مہاجرین کے مراکز کی خراب صورتحال کی وجہ سے انسانی حقوق کے متعدد ادارے یونانی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ میں سیاسی پناہ کے 45 ہزار متلاشی یونان پہنچے ہیں اور اس پیش رفت نے لوگوتھیٹس کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ یہ صورتحال یونین کے لیے 2015ء کے مہاجرین کے بحران کے مقابلے میں ”واضح طور پر زیادہ تشویشناک ہے۔‘‘ اُس وقت شام میں خانہ جنگی اپنے عروج پر تھی۔

یونانی حکومت کے مطابق آج کل یونان کے بدنام زمانہ موریا کیمپ میں اکتالیس ہزار افراد اپنی اپنی درخواستوں پر فیصلے کے انتظار میں ہیں۔یہ 2016ء میں یونان اور ترکی کے مابین طے پانے والے ایک معاہدے کے بعد سے مہاجرین کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com