جرمن پولیس نے چاقو سے حملہ کرنے والے کو ہلاک کر دیا.

جرمن شہر گیلزن کِرشن میں پولیس اہلکار پر حملہ کرنے والے ایک مبینہ چاقو بردار کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والے شخص کو ایک دوسرے پولیس اہلکار نے گولی ماری۔
گیلزن کرشن پولیس نے چاقو سے حملے کی کوشش کرنے والے ایک شخص کو ہلاک کرنے کی تصدیق کی ہے۔ پولیس نے اس حملہ آور کا نام اور شہریت ظاہر نہیں کی ہے۔ پولیس اور خفیہ اداروں نے تفتیشی عمل شروع کر رکھا ہے۔

جرمن شہر گیلزن کرشن کی پولیس کے ترجمان کے مطابق مبینہ حملہ آور نے پہلے کوئی شے پولیس کی گاڑی کو ماری اور پھر وہ شخص قریب ہی کھڑے پولیس اہلکار کی جانب بڑھا۔ ترجمان کے مطابق حملے کے لیے واضح طور پر اُس کا ایک ہاتھ بلند ہوا اور اُس نے چاقو پکڑا ہوا تھا۔

پولیس ترجمان کے مطابق حملہ آور کو روکنے کی وارننگ بھی متعدد مرتبہ دی گئی لیکن اُس نے انہیں نظر انداز کر دیا اور مجبوراً ایک دوسرے پولیس اہلکار کو اُسے روکنے کے لیے گولی چلانا پڑی۔ پولیس نے حملے کے وقت قریب موجود لوگوں سے درخواست کی ہے کہ وہ پولیس اسٹیشن پہنچ کر اپنی اپنی شہادتیں جمع کرائیں.

رواں برس کے پہلے ہفتے کے دوران فرانس میں چاقو سے دو مرتبہ حملے کیے گئے
مقامی میڈیا نے عینی شاہدین کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ حملہ آور نے حملے سے قبل ‘اللہ اکبر‘ کا نعرہ بھی لگایا۔ پولیس نے اس حملہ آور کی شناخت کو ظاہر نہیں کیا لیکن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق حملہ آور سینتیس سالہ ترک شہری تھا لیکن یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ آیا وہ جرمن پاسپورٹ کا حامل تھا۔

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com