یونان، مہاجرین لیے کام کرنے والی تنظیموں کی خلاف کریک ڈاؤن۔

یونان میں حکومت پناہ گزینوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کرنے جا رہی ہے۔

حکومت کا الزام ہے کہ یہ تنظیمیں شام، افغانستان اور پاکستان جیسے ممالک سے یورپ میں داخلے کے خواہش مند خاندانوں کی اسمگلنگ میں ان کی مدد کرتی ہیں۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ تنظیمیں انسانی فلاح کے نام پر یونان کے پناہ گزین کیمپوں میں حکومت مخالف مظاہروں جذبات بھڑکانے کا کام کر رہی ہیں۔

یونان کے محکمہ امیگریشن کے نائب وزیر جارج کوموٹساکوس کے مطابق، ”یہاں پر جعلی این جی اوز کی پوری ایک کہکشاں کام کر رہی ہے، جن میں ڈاکٹر، وکیل اور ایسے لوگ شامل ہیں، جو ان لوگوں کی مشکلات پر مال بنا رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ان تنظیموں کے ان اعمال کی وجہ سے ملک میں غیر قانونی ہجرت کا مسئلہ گمبھیر ہوتا جا رہا ہے۔

اس ضمن میں حکومت پچھلے ہفتے ایک نیا قانون لائی ہے، جس کے تحت اب تمام این جی اوز کے کام، ان کے اسٹاف کی چھان بین اور ان کے مالی معاملات کا جائزہ لیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں 90 کے لگ بھگ رجسٹرڈ تنظیموں کو کام کرنے کی اجازت ہے لیکن اس وقت 400 سے زائد گروپ پناہ گزینوں کے مسائل اجاگر کرنے کے لیے متحرک ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پچھلے سال تقریباً 68000 پناہ گزین بحیرہ ایجیئن عبور کر کے یونان پہنچے تھے، جبکہ مزید مہاجرین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ یونان کی حکومت خدشہ ظاہر کر چکی ہے کہ 2020ء میں مزید ایک لاکھ افراد یونان کا رخ کر سکتے ہیں۔

یونان کے جزیرے لیسبوس کے موریا نامی پناہ گزین کیمپ میں پہلے ہی گنجائش سے زیادہ مہاجرین رہ رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں موریا کیمپ کو ‘ زمین پر دوزخ‘ قرار دیتی رہی ہیں جبکہ وہاں کام کرنے والی فلاحی تنظیموں کے مطابق وہاں کے حالات ‘ایک کھلی جیل‘ سے کم نہیں۔ نومبر میں یورپی کونسل کی کمشنر برائے انسانی حقوق نے ان مہاجر کیمپوں کا دورہ کرنے کے بعد کہنا تھا کہ یہ ایک ‘تباہ کن صورت حال‘ہے۔ ان کیمپوں میں نہ صرف ادویات اور مناسب طبی دیکھ بھال کی کمی ہے بلکہ ٹوائلٹس بھی بہت ہی کم ہیں۔

بعض مقامی لوگ پناہ گزینوں کو مصیبت سمجھتے ہیں اور نسلی کشیدگی کی وجہ سے بعض اوقات جھگڑے اور فساد ہوتے آئے ہیں۔

تارکین وطن کو غیر قانونی اور خطرناک سفر سے روکنے کے لیے مارچ سن 2016 میں ترکی اور یورپی یونین کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا، جس کے تحت ترکی سے یونانی جزائر پہنچنے والے تارکین وطن کو واپس ترکی بھیجنا طے پایا تھا۔

اس معاہدے کے مطابق ترک حکومت نے غیر قانونی تارکینِ وطن کو یونان پہنچنے سے روکنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ جواب میں ترکی کو مجموعی طور پر چھ ارب یورو کی مالی مدد دی گئی۔ لیکن ترکی یورپی یونین سے مزید فنڈز کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com