مہاجرین کی غیر قانونی ملک بدریاں، یورپی ممالک پر دباؤ

یورپی یونین کی پارلیمان نے یورپ کی بیرونی سرحدوں پر مہاجرین اور تارکین وطن کی صورتحال پر بحث کی۔ مرکزی توجہ یونان اور کروشیا پر مرکوز تھی۔
کروشیا اس وقت یورپی یونین کی ششماہی صدارتی ذمہ داری نبھا رہا ہے، تاہم اس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہاں سے غیر قانونی طریقے سے مہاجرین کو ہمسائے ملک بوسنیا منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

یہ الزام نیا نہیں ہے۔ تاہم اسٹراسبرگ میں یورپی یونین کے پارلیمانی اجلاس کے دوران کسی انفرادی ملک کے بارے میں بحث ہونا اچھا نہیں سمجھا جاتا، تاوقتیکہ اس ملک میں کسی قانون کی خلاف ورزی اس قدر واضح ثابت ہو جائے کہ اُس کے بارے میں خاموش نہیں رہا جا سکے۔ یونان کی حزب اختلاف کی مضبوط جماعت سریزا کے یورپی پارلیمان کے رکن کوسٹاس آروانائٹس نے کروشیا کے بارے میں شکایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاملہ بالکل یہی ہے۔

کوسٹاس آروانائٹس حالیہ مہینوں میں جنوب مشرقی یورپ کے تمام پناہ گزین کیمپوں کا دورہ کر چُکے ہیں اور انہوں نے بذات خود مقامی متاثرہ افراد سے بات چیت کی ہے۔ بائیں بازو کے سیاستدان کا دعویٰ ہے کہ سربیا، کروشیا، رومانیہ، ہنگری اور بوسنیا ہرزیگوینا میں پناہ کے متلاشی سینکڑوں افراد کو نہایت پُرتشدد طریقے سے سرحدوں سے دھکیلا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا، ”کروشیا کے وزراء کہتے ہیں کہ یہ غلط خبر ہے، لیکن ہم نے اپنی آنکھوں سے پناہ کے متلاشی افراد کی مایوسی اور بے بسی دیکھی ہے۔ حقیقت کو توڑ مروڑ کر اس کے برعکس دکھانا یورپی یونین کے اراکین پارلیمان کی توہین ہے اور دائیں بازو کے انتہا پسند عناصر کے ہاتھوں میں کھیلنے کے مترادف ہے۔‘‘

ریاستی سکریٹری نیکولینا برنجک، جو کروشین ایوان صدر کی ترجمان ہیں، کا کہنا ہے کہ کروشیا پر تارکین وطن کے ساتھ خراب سلوک کا غلط الزام لگایا گیا ہے۔ کروشیا کے یورپی امور کی سیاستدان زیلجانا زوکو بھی اس ضمن میں بوسنیا اور کروشیا کے تعاون سے کیے گئے اقدامات کی نشاندہی پر زور دیا۔ انہوں نے بوسنیا کے وزیر سلامتی امور فرہدین رڈونک کا حوالہ دیا، جنہوں نے اعتراف کیا کہ ”بوسنیا میں گزشتہ تین سالوں میں کسی نے پناہ گزینوں کے مسئلے سے چشم پوشی کی ہے۔‘‘

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com