یونان کی غیر قانونی تارکین وطن کے لیے سخت پالیسی۔

ایک ماہ  کے اندر درسری بار یورپی یونین کے اراکان پارلیمان مہاجرین اور تارکین وطن کی نا امید صورتحال پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ برسلز میں جنوری کے آخر میں ہونے والی آخری بحث میں خاص طور سے یونانی جزیروں پر پائے جانے والے مصائب زیر بحث رہے تھے۔ اس محاذ پر بھی کوئی واضح پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ اس کے بالکل برعکس: گرین پارٹی کے ایک سیاستدان ڈامیان بوئزلاگر کے بقول، ”یونانی جزیروں پر صورتحال ابتر ہوگئی ہے، اور اب ایک تیرتی ہوئی سرحد کھینچنا ہوگی۔‘‘

ادھر ‘ہیلاس‘، جو یونان کا قدیمی نام ہے میں، مہاجرین کی پالیسی کا ایک بڑا تنازعہ اُس وقت سے کھڑا ہوا جب یونانی وزیر اعظم کریاکوس میتسوتاکس نے حال ہی میں ہجرت کے اپنے ماسٹر پلان کا اعلان کیا۔

اس منصوبے میں سیاسی پناہ کے حقوق سے متعلق قوانین کو نہایت سخت بنانے کی بات کی گئی ہے۔ جزیرے لیسبوس پر واقع موریا مہاجر کیمپ کو ختم کرنا ہے۔ اس کے لیے مشرقی ایجیئن کے کئی جزیروں پر نئے ادارے قائم کیے جارہے ہیں، جو پناہ گرینوں کی آمد کو مکمل طریقے سے روکنے کا کام انجام دیں گے۔ مقامی سیاستدان، جن میں حکمران قدامت پسند پارٹی سے تعلق رکھنے والے سیاستدان بھی شامل ہیں، ایتھنز کی اس نئے منصوبے پر طوفان برپا کر رہے ہیں اور نئے کیمپوں کی تعمیر کے لیے موزوں مقامات فراہم کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔

یونان کے وزیر اعظم کریاکوس میتسوتاکس نے اس ہفتے کے شروع میں دھمکی دی تھی کہ اس منصوبے کے لیے مناسب جائیدادیں ضبط کرلی جائیں گی۔ جزیرے کے پالیسی وزیر جینس پلاکیوٹاکیس نے منگل کو کہا کہ حکومت جزیرے والوں کے رد عمل کو سمجھتی ہے، لیکن یہ قومی مفاد کا منصوبہ ہے جسے بغیر کسی رکاوٹ کے نافذ کیا جائے گا۔ اقوام متحدہ کی مہاجر ایجنسی یو این ایچ سی آر کے مطابق سن 2019 میں ترکی کے راستے یونان میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والوں کی تعداد چوہتر ہزار چھ سو تک پہنچ گئی جبکہ 2018 ء میں ایسے افراد کی تعداد پچاس ہزار پانچ سو تھی۔

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com