برطانیہ کی نئی امیگریشن پالیسی: کم ہنرمند افراد اب ملازمت کے لیے برطانیہ نہیں جا سکیں گے.

برطانیہ نے بريگزٹ کے بعد امیگریشن کا جو منصوبہ جاری کیا ہے اس کے تحت کم ہنر رکھنے والے افراد یا ملازمین کو ویزا نہیں دیا جائے گا۔

اس میں ملازمت دینے والوں سے کہا گیا ہے کہ یورپ سے ’سستی مزدوری‘ پر انحصار کرنے سے ’گریز‘ کیا جائے اور متبادل کے طور پر سٹاف کو روکنے اور آٹومیشن یا خودکار ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ کاری کی جائے۔

وزارت داخلہ کے دفتر نے کہا ہے کہ 31 دسبمر کے بعد جب برطانیہ اور یورپی یونین کی آزاد نقل و حرکت ختم ہو جائے گی تو یورپی یونین یا غیر یورپی ممالک سے برطانیہ آنے والے شہریوں کے ساتھ یکساں انداز میں پیش آیا جائے گا۔

لیبر پارٹی کا کہنا ہے کہ ’مشکل حالات‘ کی وجہ سے ملازمین کو راغب کرنا مشکل ہوگا۔

لیکن وزیر خارجہ پریتی پٹیل نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حکومت ’صحیح صلاحیتوں والے افراد کی حوصلہ افزائی‘ اور ’کم ہنر رکھنے والے افراد کی برطانیہ آمد کو کم‘ کرنا چاہتی ہے۔

ہنر مند‘ کون ہے؟
منصوبے کے تحت ہنر مند افراد کی تعریف کے دائرے کو بڑھایا گیا ہے تاکہ اے لیول تک تعلیم رکھنے والے افراد کو شامل کیا جا سکے نہ کہ صرف گریجویٹ لیول کی تعلیم، جیسا کے موجودہ نظام میں ہے۔

ویٹر اور کچھ مخصوص قسم کے زرعی ملازمین کو ہنر کی اس نئی کیٹیگری سے نکال دیا جائے گا لیکن بڑھئی، معمار اور بچے رکھنا نیا اضافہ ہو گا۔

یہ کیسے کام کرے گا؟
حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ’پوائنٹس پر مبنی‘ امیگریشن نظام چاہتی ہے جیسا کہ اس نے اپنے انتخابی منشور میں وعدہ کیا تھا۔

انگریزی بولنا اور ہنر والے کام کے لیے ’منظور شدہ سپانسر‘ کی بنا پر برطانیہ کام کے لیے آنے والے ان افراد کو 50 پوائنٹس ملیں گے۔

تاہم ان کی تعلیم، آفر کی گئی تنخواہ اور کسی ایسے سیکٹر میں کام کرنا جہاں لوگوں کی کمی ہے، پوائنٹس میں اضافہ کریں گے۔

یورپ کے معاشی علاقوں والے ممالک کے پاس ابھی تنخواہ اور ہنر سے قطع نظر برطانیہ میں رہنے اور کام کرنے کا حق موجود ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ 31 دسمبر کو بریگزٹ کے گیارہ ماہ مکمل ہونے کے بعد یہ ختم ہو جائے گا۔

تنخواہ کی درجہ بندی
ہنر مند افراد جو برطانیہ آنا چاہتے ہیں ان کی تنخواہ 30 ہزار پاؤنڈز سے کم کر کے 25 ہزار چھ سو پاؤنڈ کر دی جائے گی۔

تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ ’مخصوص کمی والے پیشوں‘ میں لوگوں کے لیے تنخواہ 20 ہزار چار سو اسی ڈالر تک کم ہو گی ہے، ان پیشوں میں ابھی نرسنگ، سول انجینئرنگ، نفسیات اور بیلی ڈانس شامل ہیں۔

لیکن برطانیہ میں آنے والے ہنر مند افراد کی تعداد پر مجموعی طور پر اب مزید کوئی پابندی نہیں ہو گی۔

’کم تنخواہ والے شعبوں میں کیا ہو گا؟‘
حکومت کا کہنا ہے کہ وہ کم ہنرمند ورکرز کے لیے کوئی راہ متعارف نہیں کرانے جا رہی ہے اور کمپنیوں کو برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان آزاد نقل و حمل کے معاہدے کے ختم ہونے کے بعد ‘’اڈیپٹ اور ایڈجسٹ‘ یعنی مطابقت پیدا کرنے اور موافق بننے کے لیے کہا ہے۔

حکومت نے کہا: ’یہ اہم ہے کہ تقرری کرنے والے برطانیہ کے امیگریشن نظام پر انحصار سے آگے نکلیں اور متبادل کے طور پر سٹاف کو روکنے، پیداوار بڑھانے اور خودکار ٹیکنالوجی میں وسیع سرمایہ کاری کو اپنائیں۔‘

اس کے باوجود حکومت نے کہا کہ جن 32 لاکھ یورپی یونین کے لوگوں نے برطانیہ میں رہنے کے لیے درخواست دی ہے وہ ہمارے لیبر مارکیٹ کی ضرورتوں کو پورا کر سکتے ہیں۔

کنفیڈریشن آف برٹش انڈسٹریز (سی بی آئی) نے بعض تجاویز کا خیرمقدم کیا ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ بعض کمپنیوں کو ’اپنے بزنس کو چلانے کے لیے لوگوں کو ملازمت دینے میں پریشانی ہوگی۔‘

بزنس لابی گروپ کی ڈائریکٹر جنرل کیرولن فیئربیئرن نے کہا: ’کمپنیوں کو معلوم ہے کہ بیرون ممالک سے لوگوں کو لانا اور اپنے ورک فورس کے ہنر میں اضافے میں سرمایہ کاری اور نئی ٹیکنالوجی، یا یہ یا وہ والے انتخاب کی بات نہیں بلکہ معیشت کو آگے لے جانے کے لیے دونوں کی ضرورت ہے۔’

رائل کالج آف نرسنگ نے ان تجاویز پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ’آبادی کے ہیلتھ اور کیئر کی ضرورت پوری نہیں ہو سکے گی‘ جبکہ یونیزن کی نائب جنرل سیکریٹری کرسٹینا میک آنیا نے کہا کہ ’یہ منصوبہ کیئر کے شعبے کے لیے تباہی ثابت ہو گا۔‘

یوکے ہوم کیئر ایسوسی ایشن نے تجاویز میں کم تنخواہ والے ملازموں کے انتظام کو ’غیر ذمہ دارانہ‘ کہا ہے اور ایک ترجمان نے تو یہاں تک کہا کہ وہ حکومت کے فیصلے سے ’مایوس‘ ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا: ’نئے مائیگریشن نظام کے تحت ممکنہ کیئر ورکرز کی فراہمی میں کمی کا نتیجہ یہ ہو گا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ہسپتالوں میں انتظار کی قطار میں ہوں گے یا پھر بغیر نگہداشت کے رہیں گے۔‘

دریں اثنا نیشنل فارمرز یونین کے صدر مینٹ بیٹرز نے منصوبے میں برطانوی فوڈ اور کاشتکاری کی ضرورتوں کو پہنچاننے کی ’ناکامی‘ پر ’گہرے خدشات‘ کا اظہار کیا ہے۔

اور فوڈ ایںڈ ڈرنک فیڈریشن نے بیکرز، گوشت کے پروسیسرز اور پنیر اور پاستا جیسی چیزیں بنانے والے ملازموں کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے جو کہ نئے نظام کے تحت اہل قرار نہیں پاتے۔

نئے منصوبے کے تحت تمام تارکین وطن کو صرف آمدن کے متعلق فوائد حاصل ہوں گے جب تک کہ انھیں وہاں رہنے کی چھوٹ حاصل نہیں ہو جاتی جو کہ عام طور پر پانچ سال بعد ملتی ہے۔

فی الحال یورپی یونین کے ممالک سے برطانیہ آنے والے شہری اگر ‘معاشی طور پر سرگرم’ ہیں تو وہ فوائد حاصل کر سکتے۔ غیر یورپی شہریوں کو ان فوائد کا اہل اس وقت قرار دیا جاتا ہے جب وہ وہاں کے مستقل رہائیشی بن جاتے ہیں اور اس کے لیے برطانیہ میں عموما قانونی طور پر پانچ سال رہائش پزیر ہونا ہوتا ہے۔

مائیگریشن ایڈوائزری کمیٹی (ایم اے سی) کی تجاویز کے تحت دوسرے ممالک سے برطانیہ آ کر کام کرنے والے ہنرمند ملازموں کی کم سے کم تنخواہ 30 ہزار ڈالر سے کم کرکے 25600 ہزار کر دی گئی ہے۔

آزاد مشاورتی ادارے کا کہنا ہے کہ کم سے کم تنخواہ کی حد کو کم کرنے سے ٹیچرز اور این ایچ ایس (نیشنل ہیلتھ سکیم) کے ہنرمند سٹاف کی تقرری میں مدد ملے گی۔

رواں نظام کے برخلاف نئے نظام میں امیدوار اپنے پوائنٹس کا سودا کرنے کے اہل ہوں گے۔

جو لوگ 25600 پاؤنڈ سے کم لیکن 20480 پاؤنڈ سے زیادہ کما رہے ہیں وہ بھی ویزا کے لیے عرضی داخل کر سکتے ہیں اگر انھیں ‘مخصوص کم ملازمت والے’ شعبے میں نوکری ملی ہے یا ان کے پاس اپنے کام کے لیے موزوں مضمون میں پی ایچ ڈی ہے۔

حکومت نے کہا ہے کہ کم ملازمت والے معاش کی ایک فہرست کو غور کرنے کے لیے ایم اے سی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

فی الحال ایم اے سی کی کم ملازمت والی فہرست میں سول انجینیئر، ڈاکٹر، نرس، ماہر نفسیات اور کلاسیکی بیلے ڈانسر شامل ہیں۔

حزب اختلاف کی جانب سے ظلی وزیر داخلہ ڈیانے ایبٹ نے کہا کہ تنخواہ کے آخری حد کے نظام میں ‘این ایچ ایس، سوشل کیئر، اور پرائیوٹ سیکٹر کے بہت سارے حصے میں اس قدر استثنی کی ضرورت ہوگی کہ یہ بے معنی ہو جائے گا۔’

انھوں نے مزید کہا: ‘اس کے ساتھ ہر سطح پر ہمیں ہنرمند ملازموں کو تلاش کرنے میں بہت مشکل کا سامنا ہوگا جبکہ ٹوری کے مخاصمانہ رویہ اپنی جگہ ہے۔ ایسے میں اسے جانا ہوگا۔’

نئے منصوبے کے تحت اب برطانیہ آنے والے ہنرمند ملازموں کی مجموعی آمد پر کوئی اوپری حد قائم نہیں ہوگی۔ یہ وہ حصہ ہے جس کی سی بی آئی نے تعریف کی ہے۔

ایم اے سی کی تجاویز پر عمل کرتے ہوئے ہنرمند ملازموں کی تعریف میں وسعت لائی جائے گی تاکہ اس میں نہ صرف گریجویٹ کی سطح تک بلکہ اے لیول تک تعلیم حاصل کرنے والے بھی شامل ہوں جیسا کے اس سے قبل ہوا کرتا تھا۔

لیکن ویٹنگ سٹاف کے کردار کو ہنرمند ملازمت کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے جبکہ اس میں بڑھئی، پلاسٹر کرنے والے اور بچوں کی نگرانی کرنے والی نئی ملازمت کو شامل کیا گیا ہے۔

برطانیہ میں پڑھنے کے لیے غیر ملکی طلبہ کو کسی تعلیم ادارے سے پیشکش کی ضرورت ہوگی، انھیں انگریزی زبان آنا چاہیے اور انھیں یہ دکھانا پڑے گا کہ وہ اپنی امداد خود کر سکتے ہیں۔

رواں نظام میں مجوزہ تبدیلیوں کو ایک امیگریشن بل کے ذریعے نافذ کی جائے گا جسے رکن پارلیمان اور ان کے مساوی لوگوں سے منظوری کے بعد عمل میں لایا جائے گا۔

حزب اختلاف کے امیگریشن وزیر بیل ریبیرو ایڈی نے بی بی سی نیوز نائٹ کو بتایا: ‘میرے خیال سے لوگوں کو قدرے ٹھگ لیا گیا ہے۔ ہمیں کہا گیا کہ یہ آسٹریلوی طرز کا پوائنٹس پر مبنی نظام ہوگا۔

‘آسٹریلوی نظام تمام تر شعبہ جات میں تارکین وطن کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ مجھے پتا ہے کہ وہ ویسا کرنا نہیں چاہتے ہیں لیکن آپ اسے ایسی چیز کیوں کہہ رہے ہیں جو وہ نہیں ہے؟’

لبرل ڈیموکریٹ سے داخلہ امور کی ترجمان کرسٹین جارڈن نے کہا کہ یہ تجاویز ‘اجنبیوں سے نفرت’ پر مبنی ہے۔

ایس این پی کے امیگریش کے ترجمان سٹورٹ مکڈونلڈ نے ان تجاویز کو ‘ادھوری اور کسی کو فٹ نہ آنے والی ایک ہی سائز کی تباہ کن پالیسی’ کہا ہے۔

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com