دنیا میں کورونا سے 1 لاکھ 64 ہزار اموات، ترکی میں متاثرین چین اورایران سے بڑھ گئے

دنیا میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 1 لاکھ 64 ہزار 391 ہوگئی اور 23 لاکھ 92 ہزار سے زائد متاثر ہوچکے ہیں جب کہ 6 لاکھ 14 ہزار 750 افراد صحت یاب ہوگئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اٹلی اور اسپین جیسے شدید متاثرہ ممالک میں اب روزانہ اموات کی شرح میں کمی واقع ہورہی ہے جب کہ امریکا سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں کورونا وائرس وبا کے پھیلاؤ میں تیزی آچکی ہے ۔ سنگاپور میں کورونا وبا کا پھیلاؤ تیز ہوچکا ہے اور وہاں ایک ہی دن میں 9 سو 42 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جاپان میں مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے اسپتالوں کی گنجائش ختم ہورہی ہے۔ جاپان کی سوسائٹی فور ایمرجینسی میڈیسن کے مطابق کئی اسپتالوں کے ہنگامی طبی امداد کے شعبے مریضوں کو واپس بھیج رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جاپان میں ایک لاکھ افراد کے لیے صرف پانچ آئی سی یو دستیاب ہیں جس کے باعث صورت حال تشویش ناک ہورہی ہے۔

امریکا

مزید 1 ہزار 117 ہلاکتوں کے بعد امریکا میں کورونا وائرس سے اموات کی مجموعی تعداد 40 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ 7 لاکھ 56 ہزار سے زائد افراد وبا کی لپیٹ میں آچکے ہیں۔ امریکا کی سب سے زیادہ متاثر ریاست نیویارک میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران اموات کی سب سے کم شرح رہی تاہم وبا کے متاثرین اور اموات کے اعتبار سے امریکا سب سے زیادہ متاثر ملک ہے۔

اسپین

اتوار کو مجموعی طور پر اسپین میں کورونا وبا سے 410 ہلاکتیں ہوئیں جب کہ ہفتے کو یہ تعداد 565 رہی تھی۔ اسپین کی وزارت صحت کے مطابق 22 مارچ کو ملک مین وبا سے سب سے کم ہلاکتیں ہوئیں۔ ہفتے کو قوم سے خطاب میں ہسپانوی وزیر اعظم نے قوم سے خطاب میں لاک ڈاؤن کی مدت 9 مئی تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ اسپین میں کورونا وائرس سے مجموعی طور پر20 ہزار 453 اموات ہوچکی ہیں جب کہ 1 لاکھ 95 ہزار 944 افراد متاثر ہوچکے ہیں۔

اٹلی

اسپین کی طرح اٹلی میں بھی کورونا وبا سے ہونے والی ہلاکتوں کی یومیہ تعداد میں کمی آنا شروع ہوئی ہے۔ جمعے کو وائرس سے 575 اموات ہوئی تھیں جب کہ ہفتے کے روز یہ تعداد 482 رہی۔ اٹلی میں گزشتہ چھ ہفتے سے لاک ڈاؤن جاری ہے اور مارچ کے اختتام سے وہاں اموات اور کیسز کی یومیہ شرح میں کمی واقع ہونا شروع ہوئی ہے۔ اٹلی میں کاروبار اور دیگر بندشیں 3 مئی کو ختم کی جانا تھیں تاہم اموات کی شرح میں کمی کے بعد صنعت کاروں اور کاروباری اداروں کی جانب سے حکومت پر لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کے لیےدباؤ ڈالا جارہا ہے۔ اطالوی وزیر اعظم گزشتہ ہفتے اس کا امکان مسترد کرچکے ہیں۔ اٹلی میں کورونا وائرس وبا سے اب تک 23 ہزار سے زائد اموات ہوچکی ہیں جب کہ تقریبا 1 لاکھ 79 ہزار افراد متاثر ہیں۔

فرانس

3 سو 95 مزید اموات کے بعد فرانس میں کورونا وبا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 19 ہزار 7 سو 18 ہوچکی ہے جب کہ متاثرین کی مجموعی تعداد 1 لاکھ 52 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔ فرانس کے صحت عامہ کی اتھارٹی کے مطابق آئی سی یو کے مریضو میں کمی واقع ہوئی ہے۔ فرانس میں وبا کے انسداد کے لیے 17 مارچ سے لاک ڈاؤن نافذ ہے۔

برطانیہ

کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کے اعتبار سے دنیا کا پانچواں ملک برطانیہ ہے جہاں مجموعی طور پر وبا سے اب تک 16 ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اتوار کو برطانیہ میں کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا اور 5 ہزار 8 سو 50 سے زائد افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی جس کے بعد متاثرین کی تعداد 1 لاکھ 20 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔ برطانیہ کے سینیئر وزیر نے وضاحت کی ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر ملک میں لاک ڈاؤن نرم کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ 1 لاکھ 44 پزار سے زائد متاثرین کے ساتھ جرمنی کرونا وبا کی لپیٹ سے شدید متاثر ہونے والے پانچواں بڑا ملک ہے۔ تاہم جرمنی میں تاحال ہلاکتوں کی شرح کم ہے اور گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 10 اموات کی تصدیق ہوئی جس کے بعد مجموعی ہلاکتیں 4 ہزار 5 سو 48 ہوگئی ہیں۔

ترکی میں ایران اور چین سے زیادہ متاثرین

ترکی کے وزیر صحت نے ملک میں کورونا وائرس کے 82 ہزار 329 کیسز کی تصدیق کی ہے جس کے بعد یہاں مریضوں کی تعداد چین اور کورونا وبا سے شدید متاثر ملک ایران سے بھی بڑھ گئی ہے۔ ترکی میں اب تک وبا سے 2 ہزار 17 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ترکی میں 40 ہزار سے زائد ٹیسٹ کیے گئے اور 18 سو 22 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی۔

لاک ڈاؤں کے خلاف احتجاجی مظاہرے

کورونا وبا کی روک تھام کے لیے نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن کے خلاف امریکا کے مختلف شہروں میں احتجاج ہوا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیو ہمپشائر ، میری لینڈ، ٹیکساس کے دارالحکومت آسٹین سمیت مختلف امریکی ریاستوں میں کورونا وائرس کی وجہ سے عائد کردہ نقل و حمل اور عوامی سرگرمیوں کی پابندی کے خلاف سیکڑوں شہری گھروں سے نکل آئے۔ دوسری جانب برازیل کے دارالحکومت میں بھی سیکڑوں ٹرک، کار اور موٹر سائیکل سواروں نے لاک ڈاؤن کی پابندیوں کے خلاف ریلی نکالی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ لالچی سیاست دان صرف افراتفری پھیلانے کے لیے اس طرح کے اقدامات کررہے ہیں۔

۔واضح رہے کہ امریکا میں لاکھوں افراد کورونا وائرس وبا کے باعث بے روزگاری کا شکار ہے چکے ہیں جب کہ عالمی سطح پروبا کے باعث شدید معاشی بحران پیدا ہوچکا ہے۔

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com