پاکستان: پی آئی اے کا طیارہ کراچی ایئرپورٹ کے قریب گر کر تباہ

لاہور سے کراچی آنے والا پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کا مسافر بردار طیارہ کراچی ایئرپورٹ کے قریب گر کر تباہ ہوگیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پی آئی اے کا مسافر طیارہ لاہور سے کراچی آرہا تھا کہ لینڈنگ سے کچھ ہی دیر پہلے ہوائی اڈے سے متصل علاقے ماڈل ٹاؤن کی رہائشی کالونی میں گر کر تباہ ہوگیا۔ طیارہ گرنے سے کئی مکانات بھی تباہ ہوئے جس کے بعد علاقے میں بھگدڑ مچ گئی۔

حادثے کی شکار پرواز عید کی مناسبت سے خصوصی طور پر چلائی گئی تھی۔ پرواز نے دوپہر ایک بج کر 10 منٹ پر اڑان بھری تھی اور اپنے مقررہ وقت پر کراچی پہنچ گئی تاہم لینڈنگ سے چند ہی لمحوں پہلے پرواز کا کنٹرول روم سے رابطہ منقطع ہوگیا۔
طیارہ کا 2 بج کر37 منٹ پر تباہ ہوا
سول ایوی ایشن ذرائع کے مطابق طیارے کا 2 بج کر 37 منٹ پر ایئر کنٹرول کے ریڈار سے رابطہ منقطع ہوا اور بعد ازاں کپتان سجاد گل نے ایئر کنٹرول ٹاور کو طیارے کے لینڈنگ گیئر میں خرابی کے بارے آگاہ کیا۔

ترجمان پی آئی اے کے مطابق طیارہ زیادہ پرانا نہیں تھا اور اس کی عمر تقریباً 10 سے 11 سال تھی، طیارہ مکمل مینٹین تھا لہٰذا تکنیکی خرابی کے بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔

پی آئی اے کا ایمرجنسی کال سینٹر فعال
ترجمان پی آئی اے کے مطابق پی آئی اے کا ایمرجنسی کال سینٹر فعال کردیا گیا اور پی آئی اے کے آپریشنل ملازمین کو ڈیوٹی پر طلب کرلیا گیا ہے جیسے جیسے معلومات ملتی جائیں گی میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔

ذرائع سول ایوی ایشن کے مطابق سول ایوی ایشن نے کراچی میں طیارہ حادثہ کے بعد فضائی آپریشن بند کردیا، پی آئی اے نے مختلف شہروں لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ سے فضائی آپریشن روک دیا۔

ذرائع کے مطابق طیارہ فنی خرابی کا شکار ہوا اور لینڈنگ سے کچھ دیر پہلے طیارے کے ٹائر نہیں کھل رہے تھے جب کہ طیارے کے پائلٹ نے ٹریفک کنٹرول کو ’مے ڈے‘ کال بھی دی تھی۔

پائلٹ اور ٹریفک کنٹرول ٹاور کے درمیان آخری رابطے کی آڈیو ریکارڈنگ بھی سامنے آئی جس میں پائلٹ نے ایک انجن فیل ہونے کی اطلاع دی اور بعد ازاں ’مے ڈے‘ کال دی جس پر کنٹرول ٹاور سے بتایا گیا کہ طیارے کی لینڈنگ کے لیے دو رن وے دستیاب ہیں تاہم طیارے سے دوبارہ رابطہ نہ ہوسکا۔

بدقسمت طیارے میں 99 مسافر اور عملے کے 8ارکان سوار تھے۔ ذرائع کے مطابق طیارے کے کپتان کا نام سجاد گل ہے اور عملے میں عثمان اعظم ، فرید احمد، عبدالقیوم اشرف، ملک عرفان رفیق، عاصمہ اور انعم مقصود شامل ہیں۔

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com