کورونا وائرس کے علاج ميں بڑی پيشرفت جلد متوقع.

سائنسدان کورونا وائرس کے علاج کے ليے اينٹی باڈی ٹريٹمنٹ کے ايک طريقہ کار کے بارے ميں کافی پر اميد دکھائی دے رہے ہيں، جس کی بنياد پر برطانوی اخبار ’دا گارڈين‘ نے لکھا ہے کہ اس مرض کے علاج ميں بڑی پيشرفت شايد جلد متوقع ہے۔
برطانوی سويڈش دوا ساز کمپنی ‘ايسٹرا زينيکا‘ کے مطابق نئے کورونا وائرس ميں مبتلا افراد کو بيماری کی تشخيص کے ابتدائی دنوں ميں اگر ‘کلونڈ اينٹی باڈيز‘ کا ٹيکا لگايا جائے، تو يہ مريض کی صحتيابی ميں موثر ثابت ہو سکتا ہے۔

کمپنی کے چيف اگزيکيٹو پاسکل سوريوٹ نے اخبار کو اپنے انٹرويو ميں بتايا کہ دو مختلف طرح کی اينٹی باڈيز کو ملا کر ايک نئے طريقہ علاج پر کام جاری ہے۔ ان کے بقول اگر مريض کا جسم ميں ايک طرح کی اينٹی باڈيز کا اثر نفی ہو جائے، تو پھر بھی دوسری اينٹی باڈی با اثر رہ سکتی ہے۔ يوں اس طريقہ علاج کے موثر ہونے کے امکانات زيادہ ہيں۔

‘ايسٹرا زينيکا‘ کے چيف اگزيکيٹو پاسکل سوريوٹ نے مزيد کہا ہے کہ ويکسين کی نسبت اينی باڈی ٹريٹمنٹ زيادہ مہنگی ہوتی ہے۔ يہی وجہ ہے کہ يہ طريقہ علاج زيادہ عمر کے اور ايسے افراد کے علاج کے ليے بروئے کار لايا جائے گا، جنہيں پہلے سے مختلف طبی مسائل کا سامنا ہو يا جن کی حالت نازک ہو۔

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com