کئی ملکوں ميں کورونا کے سائے تلے عيد الاضحٰی کی تقريبات جاری.

آج کئی ممالک و خطوں ميں عيد الاضحٰی منائی جا رہی ہے۔ عيد الفطر کی طرح اس بار عيد الاضحٰی بھی کورونا کے بحران کے تناظر ميں محدود سطح پر منائی جا رہی ہے جب کہ اس سال حج بھی احتیاطی تدابیر کے ساتھ ادا کیا گیا۔
سب سے زيادہ مسلم آبادی والے ملک انڈونيشيا ميں شہريوں نے چہروں پر ماسک پہن کر اور بخار چيک کرانے کے بعد عيد الاضحٰی کی نماز ادا کی۔ ملک ميں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کيسز کے تناظر ميں جکارتہ حکومت نے عوام سے اپيل کی ہے کہ وہ بڑے اجتماعات سے گريز کريں۔

يہی وجہ ہے کہ مساجد کے علاوہ نماز عيڈ سڑکوں پر بھی ادا کی گئی تاکہ نمازيوں کے درميان فاصلہ برقرار رکھا جا سکے۔ انڈونيشيا کے وزير برائے مذہبی امور نے مساجد سے درخواست کر رکھی تھی کہ تقاريب مختصر مدت کے ليے منعقد کی جائيں۔ کئی مساجد نے قربانی سے بھی منع کر ديا تھا۔

مسلمانوں کے مذہبی تہوار عید الاضحٰی کی تقريبات عام طور پر تین دن تک جاری رہتی ہيں۔ اس موقع پر جانور قربان کیے جاتے ہيں اور پھر ان کا گوشت غریبوں اور رشتہ داروں ميں تقسیم کيا جاتا ہے۔ پاکستان ميں عيد الاضحٰی کل ہفتے کو منائی جائے گی۔

طبی ماہرين نے عيد جيسے تہواروں پر بڑے اجتماعات کے انعقاد سے وائرس پھيلنے سے خبردار کر رکھا ہے۔ اسی تناظر ميں آسٹريلوی وزير اعظم اسکاٹ موريسن نے بھی دنيا بھر کے مسلمانوں سے درخواست کی ہے کہ وہ بڑے اجتماعات ميں شرکت نہ کريں.

دريں اثناء اسلام کے پانچ اراکین میں سے ایک حج کے مناسک یعنی مذہبی رسومات کا بدھ انتيس جولائی سے آغاز ہوگیا تھا تاہم کورونا کی عالمی وبا کی وجہ سے حج کی ادائیگی علامتی نوعیت کی رہی۔

سعودی حکومت نے سعودی عرب میں مقیم صرف ایک ہزار افراد کو فریضہ حج ادا کرنے کی اجازت دی ہے۔ ان میں صرف 30 فیصد سعودی شہری ہیں جب کہ بقیہ کا تعلق دیگر ملکو ں سے ہے۔ حالانکہ دنیا بھر سے تقریباً پچیس تا تیس لاکھ افراد ہر سال حج کے لیے آتے تھے۔

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com